خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 264 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 264

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۴ خطبه جمعه ۳۰/ جون ۱۹۷۲ء نے انہیں زندہ رکھنے کے لئے کچھ کیا تو تھا۔مگر اس کی تفصیل ہماری تاریخ نے محفوظ نہیں رکھی۔لیکن ان کی حالت یہ تھی کہ ایک بزرگ صحابی کہتے ہیں ایک دفعہ رات کے وقت میرا پاؤں ایک ایسی چیز پر پڑا جسے میرے پاؤں نے نرم محسوس کیا میں نیچے جھکا اسے اٹھایا اور کھا لیا۔بعد میں مدینہ میں انہوں نے یہ روایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے آج تک پتہ نہیں وہ چیز کیا تھی بھوک کی یہ حالت تھی کہ ان کو یہ دیکھنے کا خیال ہی نہیں آیا کہ یہ چیز کھانے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔غرض اڑھائی سال تک اس شدید تکلیف کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ قطع نہیں ہوا۔بلکہ اور زیادہ مضبوط ہو گیا۔کیونکہ اس عرصہ میں خدا جانے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کے کیا کیا جلوے دیکھے تھے۔ہر آدمی اپنی زندگی میں یہ جلوے دیکھتا ہے ہم نے اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی صفتِ احسان کے وہ جلوے دیکھے ہیں جن کا مادی سامانوں کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے حکم کے اجراء میں مادی اسباب کا محتاج نہیں ہے۔اُس نے یہ اسباب ہمارے لئے پیدا کئے ہیں اور ہم شکر کے ساتھ ان سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ ان کا محتاج نہیں ہے۔خدا تعالیٰ تو کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔خدا تعالیٰ یہ بھی کر سکتا ہے کہ ایک آدمی کو گرمی سے بچانے کے لئے بھری محفل میں صرف اس کے لئے ٹھنڈی ہوا چلا دے اور وہاں اس کے جو ساتھی بیٹھے ہوں ، اُن کو محسوس ہی نہ ہو رہا ہو۔خدا تعالیٰ یہ بھی کر سکتا ہے۔( مثلاً حافظ روشن علی صاحب تھے ) اُن کو کھانا بھی کھلا رہا ہو اور کسی کو نظر بھی نہ آ رہا ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ مادی اشیاء کا محتاج نہیں اور نہ اپنے بنائے ہوئے مادی قوانین کا محتاج اور قیدی ہے وہ تو غالب علی آمرہ (یوسف:۲۲) ہے۔اس کے جو قوانین ہیں، اُن کے اوپر بھی اس کا حکم غالب ہے۔جب چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے پیار کے اُن جلووں کا یہ کرشمہ تھا ( جو مسلمانوں کے چھوٹے سے گروہ نے اڑھائی سال میں دیکھے تھے ) کہ پھر دنیا کی کوئی طاقت دنیا کا کوئی ظلم اور دنیا کی کوئی سختی محبت کے اس تعلق کو قطع نہ کر سکی جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا تھا۔پس سورہ زمر کی ان آیات میں جو میں نے اس وقت پڑھی ہیں اور اپنے مضمون کے لحاظ