خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 263

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۳ خطبه جمعه ۳۰/ جون ۱۹۷۲ء حرکت کریں یعنی اپنی ذہنی ، اخلاقی اور روحانی تربیت کریں تب آپ یہ فاصلہ طے کر سکیں گے اور اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اس کی انتہا تک پہنچ سکیں گے۔چونکہ ہر ایک آدمی کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔اس لئے ہر ایک آدمی نے اپنے دائرہ صلاحیت میں ترقی کرنی ہے۔تا ہم اس دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے لحاظ سے چھوٹی سی ابتداء کر کے اس کی انتہا تک پہنچنا ہے۔پس قرآن کریم محض پڑھنے کی کتاب نہیں ہے۔یہ تو ایک ایسی کتاب ہے جس سے زندگیوں میں اس سے بھی بڑا انقلاب آتا ہے جو انسان کی ظاہری آنکھ نے اشترا کی انقلاب کی شکل میں روس میں یا سوشلسٹ انقلاب کی شکل میں چین میں دیکھا ہے۔انسان دراصل خود ایک عالم ہے۔ہمارے صوفیاء نے انسان کو ایک یونیورس قرار دیا ہے۔ایک زاویہ نگاہ سے حقیقت بھی یہی ہے که انسان خود ایک عالم ہے اس کے اندر ایک انقلاب آ جاتا ہے لیکن اس انقلاب کے لئے یہ ضروری ہے کہ خشیت اللہ ہو۔پھر یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اور دوسری صفات کا عرفان دیتی اور اس میں بڑھاتی چلی جاتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت بھی ہونی چاہیے۔آپ کتے کو دس دن روٹی دیں تو وہ دم ہلاتے ہوئے آپ کے پیچھے چل پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری اور باطنی نعماء سے مالا مال کر دیا مگر پھر بھی انسانوں میں سے بعض ناشکرے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے پیچھے نہیں چلتے ، اس کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔غرض ذاتی محبت انتہائی احسان کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔جب انسان خود کو اللہ تعالیٰ کی نعماء میں اس طرح گھرا ہوا پاتا ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کے احسان کے علاوہ اور کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔تب وہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھر جاتا ہے پھر دنیا کی کوئی طاقت اس رشتہ محبت کو جسے وہ اپنے رب سے باندھتا ہے۔قطع نہیں کر سکتی۔ہماری (انسان کی ) تاریخ میں اس قسم کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں، انبیاء علیہم السلام کی بھی اور اولیاء اللہ کی بھی پھر سب سے بہتر اور اعلیٰ اور احسن مثال حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی ہے۔آپ کی مکی زندگی کا وہ واقعہ تو بڑا مشہور ہے جب سرداران مکہ نے آپ کو اور آپ کے چند ماننے والوں کو قریباً ۲۱ ( اڑھائی ) سال کے لئے شعب ابی طالب میں بند کر دیا تھا۔اُن پر رسد کی ساری راہیں بھی بند کر دی تھیں۔تاہم اللہ تعالیٰ