خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 253 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 253

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۵۳ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء چیز داخل ہو جاتی ہے۔پانی میں مٹی کے جو چھوٹے چھوٹے ذرے ہوتے ہیں وہ اس کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔پس سختی تو نسبتا ہے لیکن اسپنج کی سختی ایسی سختی نہیں کہ باہر سے کسی چیز کا اثر اس کے اندر داخل نہ ہو سکے۔مگر غلظ “ کی رو سے کسی چیز میں ایسی سختی مراد ہے جس پر کسی چیز کا اثر نہ ہو سکے۔چنانچہ وَ اغْلُظ عَلَيْهِمْ “ کے اس فقرے یا الفاظ کے اس مجموعہ میں دراصل دو معنے پائے جاتے ہیں۔اُس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ خود اتنے سخت ہو جاؤ کہ کفر اور نفاق کا اثر تمہارے اندر گھس نہ سکے اور دوسرے یہ کہ خود اتنے سخت بن جاؤ کہ کفر اور نفاق کی سختی کے باوجود تمہارا اثران کے اندر چلا جائے اُن میں نفوذ کر جائے اور اُن کی جو ہیئت کذائی ہے اور ان کی (چونکہ انسان ہیں اس لئے ہم کہیں گے ) جو ذہنیت اور اخلاق ہیں۔اُن کے جو منصوبے ہیں، اُن کے اندر ایک تبدیلی پیدا ہو اور جو آج کا فر ہے، وہ کل کو مخلص مومن بن جائے جس طرح حضرت عکرمہ بن گئے تھے۔اور جو آج منافق ہے وہ کل سب کچھ قربان کرنے والا سچا مسلمان بن جائے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے لوگ نفاق چھوڑ کر سچے مومن بن گئے تھے۔تا ہم کئی بد بخت نفاق کی حالت میں فوت بھی ہو گئے تھے۔لیکن کئی ایک کو اللہ تعالیٰ نے تو بہ کی توفیق عطا فرمائی اور کمزور ایمان والے پختہ ایمان والے بن گئے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو گروہ تو وہ تھے جن میں پہلا خدا کا انکار کرنے والا اور دوسرا اُخروی زندگی پر ایمان نہ لانے والا اور اُس کا منکر۔ان کے علاوہ دو اور گروہ ہیں۔پہلا گر وہ خدا کو مانتا ہے۔اُخروی زندگی کو بھی مانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آسمانی شریعت بھی آنی چاہیے تا کہ اُخروی زندگی سنور جائے لیکن وہ اپنی بدبختی کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا۔دوسرا گروہ منافقوں کا گروہ ہے۔وہ اسلام میں دُنیوی اغراض کے لئے شامل ہو جاتے ہیں۔اُخروی زندگی کے سنوارنے کے لئے شامل نہیں ہوتے پس یہ دو گروہ اور آگئے ان کے متعلق ہمیں مزید تجزیہ کرنا پڑے گا کیونکہ قرآن کریم نے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق بے شمار دلائل دیئے ہیں۔سارے دلائل کا احاطہ کرنا تو ایک عمر کا بھی کام نہیں اس مضمون کا احاطہ ساری عمر کی محنت بھی نہیں کر سکتی۔تا ہم