خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 254
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۵۴ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء تفصیلی نہیں تو کچھ انشاء اللہ بیان کروں گا۔جہاں تک کا فروں کا تعلق ہے، وہ بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔لیکن میرے اس مضمون کے لحاظ سے وہ منکر مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُخروی زندگی پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ویسے جولوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے ان کے متعلق جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ بھی منکر ہیں۔لیکن اس وقت وہ منکرین مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُخروی زندگی پر بھی ایمان لاتے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآنی شریعت پر ایمان نہیں لاتے یا وہ لوگ جو نفاق کے طور پر اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔پھر قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ منکرین یعنی کا فر بھی آگے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اُن کا بھی ہمیں تجزیہ کرنا پڑے گا لیکن اس وقت میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے اصلاح وارشاد اور تبلیغ واشاعت اسلام کے کام کا از سر نو جائزہ لے کر اس میں تیزی پیدا کرنی چاہیے ان طریقوں سے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں۔اب مثلاً ایک دہر یہ شخص ہے ہمارے پاکستان میں بھی اشتراکیت کے بڑے نعرے لگ رہے ہیں۔اگر ایسے شخص کے سامنے آپ جا کر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ پیش کریں تو وہ کہے گا میں خدا تعالیٰ کو مانتا نہیں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو کیسے مان لوں۔پس جب ہم ایسے لوگوں کے پاس جائیں گے تو ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں وہ دلائل پیش کریں گے جو قرآن کریم نے دیئے ہیں اور جنہیں اگر کسی کے سامنے صحیح طور پر پیش کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ کوئی عقلمند انسان انکار نہیں کر سکتا۔پھر اُن پر یہ ثابت کریں گے کہ اُخروی زندگی بھی ماننی پڑے گی۔ورنہ اس دنیوی زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے۔اُس نے ہمیں گدھے کتے اور سور تو نہیں بنایا۔ہمارے اندر ہماری فطرت میں ایک Urge (ارج) رکھی گئی ہے۔ایک جذبہ پیدا کیا گیا ہے۔کہ ہم اُخروی زندگی کے لئے کام کریں۔اگر اُخروی زندگی نہیں تھی تو پھر جو فطرت کے اندر ایک جذبہ ہے یہ خود بخود کیسے آگیا۔سؤر اور کتے میں کیوں نہیں آیا۔