خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 247
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۷ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء پر ایمان لاتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔پھر جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن کریم نے ایک حسین اُسوہ کی شکل میں پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا: - اسْوَةٌ حَسَنَةٌ يمَن كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ (الاحزاب : ۲۲) جو شخص خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لئے آپ اُسوہ حسنہ ہیں اور جو ایمان نہیں رکھتا اُس بد قسمت کے لئے آپ کا اسوۂ حسنہ ہونا فائدہ مند نہیں ہوگا۔پس یہ دو گروہ بن گئے۔ایک دہریوں کا اور دوسرے اُخروی زندگی پر ایمان نہ لانے والوں کا۔ایسے لوگوں کو پہلے تم خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل کرو۔پھر اُخروی زندگی کا قائل کرو اور پھر اُن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کرو تو اُن پر اثر ہو گا ورنہ نہیں ہوگا۔بہر حال پچھلے جمعہ کو جو میں نے مختصر سا خطبہ دیا تھا، اسے میں نے خلاصہ کے طور پر بیان کر دیا ہے۔جو آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں ، ان میں بھی بڑا وسیع مضمون بیان ہوا ہے لیکن چونکہ میری طبیعت خراب ہے۔مجھے اس گرمی میں بھی تکلیف ہورہی ہے۔اس لئے زیادہ لمبا خط بہ نہیں دے سکتا۔ان آیات میں دو اور گروہوں کا ذکر ہے۔دراصل میں چاہتا ہوں کہ اگر سارے گروہ بیان نہ ہو سکیں تو ان میں سے بنیادی طور پر جو اہم گروہ ہیں پہلے ان کو اور پھر ان کے متعلق قرآن کریم نے جو تعلیم دی ہے اس پر روشنی ڈالوں۔میں بتا چکا ہوں کہ ایک وہ گروہ ہے جود ہر یہ کہلاتا ہے۔دوسرا وہ گروہ ہے جو خدا تعالیٰ کو تو کسی حد تک مانتا ہے لیکن اُخروی زندگی پر ایمان نہیں لاتا۔قرآن کریم کی بہت ساری آیات میں ان کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے بعض آیات کا میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں ذکر کیا تھا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کا ذکر فرمایا ہے جولوگ خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں وہ رسول پر بھی ایمان لائیں گے۔جو لوگ رسول پر ایمان لائیں گے اور اُخروی زندگی پر ان کو یقین ہوگا۔ان کو فکر ہوگی کہ اس دُنیا کی چند روزہ زندگی کی بجائے اُخروی زندگی کی فکر کرنی چاہیے۔کیونکہ وہ ابدی زندگی ہے۔وہ نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔جس کی نعمتیں بھی اس دُنیوی زندگی کے مقابلے میں بہت ہی اچھی، بہت ہی بہتر اور بہت ہی زیادہ لذتوں اور مسرتوں والی ہیں۔غرض