خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 246
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۶ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء کے فضل سے بیان کروں گا۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں یہ بتایا تھا کہ جادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ میں تین بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کے مخاطب ایک ہی ذہنیت رکھنے والے لوگ نہیں ہیں۔بلکہ وہ مختلف ذہنیتوں کے مالک ہیں۔وہ مختلف طبیعتیں رکھتے ہیں۔اُن کے عقائد مختلف ہیں اور پھر چونکہ غلط باتیں بھی کئی قسم اور نوع کی ہوتی ہیں۔اس لئے مختلف قسم کی غلط باتوں کو صحیح سمجھنے والے لوگ بھی ہیں۔اس لئے غلبہ اسلام کی مہم میں اگر ہم کامیاب حصہ لینا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ہر ایک گروہ سے اس کی سمجھ اور عقل کے مطابق بات کرنی چاہیے دو گروہ جن کا قرآن کریم نے دوسری جگہ ذکر کیا ہے اُن کے متعلق میں نے پچھلے جمعہ مختصراً بتایا تھا کہ ایک گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتا۔اب جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں ، اُسے آپ اللہ تعالیٰ پر ایمان سے قبل حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت پر ایمان لانے پر راضی کر ہی نہیں سکتے۔جو شخص خدا تعالیٰ کو نہیں مانتا اس کے لئے رسول کے ماننے کا سوال ہی نہیں ہے۔وہ کہے گا جب اللہ ہی نہیں ہے تو رسول اللہ کیسے بن گئے۔دوسرا گروہ اُن لوگوں کا ہے جو خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں۔خالق اور رب کا ایک مبہم سا مفہوم اُن کے دماغ میں ہوتا ہے لیکن اُخروی زندگی پر اُن کا یقین نہیں ہوتا۔اگر ایسے شخص کے سامنے کوئی یہ کہے کہ تمام مذاہب خصوصاً اسلام نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ قرآن کریم کی شریعت پر اگر عمل کیا جائے تو یہ انسان کو اُخروی زندگی کی نعماء کا وارث بنادیتی ہے۔تو وہ کہے گا کہ میں اُخروی زندگی پر ایمان نہیں لاتا لہذا مجھے قرآن کریم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔پس قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ وہ اُخروی زندگی کوسنوارتا ہے۔اُس شخص کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، جو اُخروی زندگی پر یقین ہی نہیں رکھتا۔وہ کہے گا میں اُخروی زندگی پر ایمان نہیں لاتا اس لئے قرآن کریم کی میں ضرورت نہیں سمجھتا۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جوتعلیم نازل کی گئی تھی ، اس کے متعلق بھی قرآن کریم نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ اس میں بھی یہی دعوی کیا گیا تھا کہ یہ انہی لوگوں کو فائدہ پہنچائے گی جو خدا تعالیٰ