خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 239

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۹ خطبہ جمعہ ۱۶ / جون ۱۹۷۲ء بحث کرنے کے لئے جن دلائل کی ضرورت تھی وہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ہدایت کی شکل میں مہیا کر دیتے ہیں۔تیسری بات ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے اور اصلاح وارشاد کے کام میں دوسرے شخص کے خیالات کا علم رکھے اور ان کو اپنی باتوں اور دلائل کے بیان میں مد نظر رکھے۔اس تیسری بات میں دراصل دوسروں کے خیالات کے مطالعہ کا بھی حکم پایا جاتا ہے ورنہ جب تک ہم ان کو سمجھ نہ جائیں ہم کوئی دلیل نہیں دے سکتے۔پس اس حصہ آیت میں ہمیں یہ تین چیزیں نظر آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ تین باتیں بیان فرمائی ہیں اب آج اگر چہ یہ دنیا ماضی کی دنیا سے بڑی مختلف ہو چکی ہے تا ہم اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ ایک سے زائد گروہ ہیں جو اپنی اپنی آراء رکھتے ہیں۔یہ اختلافات ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں نہیں بلکہ شیطان کی بہت سی زنجیریں ہیں۔جن میں اس نے اپنے ساتھیوں کو باندھ رکھا ہے کسی کے دماغ میں اسلام کے خلاف ایک اعتراض پیدا کر دیا اور کسی کے دماغ میں کوئی دوسرا اعتراض پیدا کر دیا۔جہاں تک ان مخالف گروہوں کا تعلق ہے۔ان میں کوئی فرق نہیں پڑا یعنی وہ گروہ جس طرح پہلے زمانے میں تھے اسی طرح آج بھی ہیں اگر کوئی فرق پڑا ہے تو شاید مقدار میں یعنی کمیت میں پڑا ہے۔ایسے گروہ زیادہ ہو گئے ہیں کم نہیں ہوئے کیونکہ انسان نے جب مختلف دنیوی ترقیات کیں تو اس کے دماغ میں مذہب کے خلاف مختلف اعتراضات بھی پیدا ہوئے۔جہاں تک مذہب کا سوال ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد حقیقی معنی میں ایک ہی مذہب ہے یعنی مذہب اسلام۔اس لئے ہم جو احمدی ہیں اور جن پر ساری دنیا کی اصلاح وارشاد کی ذمہ داری ہے۔ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ اسلام کے مخالفین کس قسم کے لوگ ہیں۔کوئی نئے خیالات کے لوگ تو پیدا نہیں ہو گئے وغیرہ وغیرہ۔پس ہمیں اپنی تبلیغ میں اور اصلاح وارشاد کے کام میں نئے سرے سے ایک جائزہ لینا ہوگا