خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 208
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۵رمئی ۱۹۷۲ء محبوب مهدی ظاہر ہوگا۔یہ اسی محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اور یہ ایک ایسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو ایک لمبے عرصہ کے بعد پوری ہوئی ہے اور تم اس کے خود شاہد ہو۔آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں مہدی کے ظہور کی ایک ایسی علامت بتاتا ہوں کہ جس کے پورا ہونے پر کوئی سمجھدار آدمی انکار نہیں کرے گا اور وہ یہ علامت تھی کہ رمضان کے مہینے میں مقررہ تاریخوں میں سورج اور چاند کو گرہن لگے گا اور جب سے دنیا قائم ہوئی ہے کسی شخص کے دعوی کی صداقت کے لئے رمضان میں مقررہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن نہیں لگا۔دوسرے فرمایا کہ میں تمہیں یہ بھی بتا تا ہوں کہ اس مہدی کے سچائی کے یہ دو گواہ دو دفعہ گواہی دیں گے اور یہ اس لئے کہ دنیا نے خود کو دوحصوں میں بانٹ دیا ہوگا۔ایک یہ Hemisphere کہلائے گا جس میں ہم رہتے ہیں اور دوسرا وہHemisphere جس میں امریکہ واقعہ ہے اور اس میں دراصل اس کی صداقت کو لینے پر اتناز دور تھا کہ کہیں امریکہ میں رہنے والوں کو یہ غلط نہیں نہ پیدا ہو جائے کہ ہم نے معینہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن لگتے نہیں دیکھا یا ہندوستان میں رہنے والوں کو ( پاکستان تو اس وقت بنا نہیں تھا ) یہ غلط فہمی نہ پیدا ہو جائے کہ امریکہ کا کیا ہے یہاں تو چاند اور سورج کو گرہن لگتے نہیں دیکھا گیا۔اب تو یہ لوگ ہمیں نعوذ باللہ انگریز کا ایجنٹ کہتے ہیں پھر کہہ دیتے کہ یہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں انہوں نے امریکیوں سے مل کر یہ جھوٹ بنالیا ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کی چھتوں پر سے ا میرے اس نشان کو دیکھو گے۔کس نے یہ پیشگوئی کی تھی۔یہ کون تھا جو اپنے ربّ کریم کی طرف سے ہمارے لئے یہ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لے کر آیا تھا۔یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے جو عَبدہ کے باوجود رسوله بھی ہیں اور ہر دولحاظ سے آپ کی بڑی شان ہے۔ہماری تاریخ اور ہمارا قرآن آئندہ کی خبروں ، پیشگوئیوں اور علم غیب کے متعلق ہمیں بہت کچھ بتا یا ہے۔یہاں تک بتایا ہے کہ ہم دعا اور لے اس پیشگوئی کے اصل الفاظ یہ ہیں۔إِنَّ لِمَهْدِيْنَا أَيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ - (دار قطنی جلد اول صفحه (۱۸۸)