خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 207 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 207

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۰۷ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء ہے اور جب کوئی چیز کھولی جاتی ہے تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ دوسرے کو دینے کے لئے ایسا کیا گیا ہے مثلاً اگر کوئی ایسی چیز ہے جو کسی صندوق یا کمرے میں بند پڑی ہے اور جس کے پاس وہ چیز نہیں اُسے دینی مقصود ہے یا جس کا علم دوسرے کے پاس نہیں اسے یہ بتانا ہو تو تب مفتاح کی ضرورت پڑتی ہے۔خدا تعالیٰ کو تو مفتاح کی ضرورت نہیں وہ تو علام الغیوب ہے قرآن کریم کہتا ہے اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔کسی وقت، کسی آن ، کسی لحفظہ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔اس لئے اس مفتاح یا مَفَاتِحُ کی ضرورت تو انسان کو پڑتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔وَ عِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْب - عبد کے مقام سے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے یہی سجتا تھا کہ لا اَعْلَمُ الْغَيْب اور اس رسول کے مقام سے ( میں نے بتایا ہے کہ آپ کی ذات میں عَبْدُهُ وَرَسُولُہ کا ایک بڑا ہی حسین امتزاج ہے ) یہ اعلان کروایا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس مَفَاتِحُ الْغَيْبِ ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس لئے تم میرے ذریعہ بھی غیب کا علم حاصل کر سکتے ہو اور جو راہیں میں بتاتا ہوں ان کے ذریعہ براہ راست بھی حاصل کر سکتے ہو۔معلوم ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی الجھنوں، غیب کی تکلیفوں اور غیب کی ناکامیوں کو (جوا بھی نہیں آئیں ) دور کرنے کی چابی دی گئی ہے۔اس واسطے اپنی دعا کے ساتھ اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے اپنی بدقسمتی کو خوش قسمتی میں بدلنے کا سامان بھی میں نے تمہیں دے دیا ہے۔پس جہاں عبدہ میں لَا اَعْلَمُ الْغَيْبَ کہا تھا وہاں رَسُولُہ میں کہا کہ اگر چہ میں اپنی ذات میں علم غیب نہیں رکھتا لیکن میرا ایک ایسی ہستی کے ساتھ تعلق ہے جو اپنی صفات میں کامل ہے اور جس نے اپنی رحمتوں سے بنی نوع انسان کو نوازنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔اُس نے مجھے اس دنیا میں لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔میں اس کا رسول ہوں ختم المرسلین ہوں اس لئے میں نے تمہارے لئے ہر دو طریق سے پیشگوئیاں کی ہیں۔چنانچہ غیب کے متعلق یہ پیشگوئیاں قرآن کریم میں بھی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی ہیں اور آپ کے ارشادات بھی دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔چنانچہ تیرہ سو سال پہلے کسی نے کہا تھا کہ امت محمدیہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک