خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 206 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 206

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۰۶ خطبه جمعه ۵ مئی ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ کے عبد کامل تھے اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں، بچوں کے سمجھانے کی خاطر میں پھر دہرا دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے وہ عبد تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کی کامل معرفت حاصل کی تھی مگر اُس کی عظمت اور جلال کلی طور پر جاننے کے بعد انتہائی عاجزی اور تذلل، انتہائی اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ اپنا سر اُس کے حضور جھکا دیا۔پس آپ تو یہ اعلان کرتے ہیں کہ میں غیب جاننے کا کوئی دعوی ہی نہیں کرتا تو پھر آپ کی اُمت میں سے کسی شخص کا غیب کے جانے کا دعوی کرنا تو سراسر جہالت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا مقام رسوله کا مقام ہے یعنی رسول کامل کا اور آپ کے اس مقام کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ - (الانعام :٢٠) فرما یا یہ صحیح ہے کہ خدا کا یہ بندہ غیب نہیں جانتا لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ یہ خدائے قادر و توانا کا رسول کامل ہے۔یہ اس ہستی کا رسول ہے جو غیب کو جانتا ہے اور جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں۔اس واسطے اسے غیب کی بہت سے باتیں رسول ہونے کی حیثیت میں سکھائی جاتی ہیں تا کہ یہ تمہاری اصلاح کر سکے لیکن عبد ہونے کی حیثیت میں تمہیں غیب کی باتیں نہیں بتائے گا۔پس جو محض عبد ہیں ان کو بہکنا نہیں چاہیے۔چنانچہ عبدہ کے مقام سے انکار کر وایا اور رسول کے مقام سے اقرار کروایا کہ وَعِندَه مَفَاتِحُ الْغَيْبِ کہ اس کے پاس غیب کی چابیاں ہیں۔یہاں علم غیب نہیں کہا کیونکہ اس میں بھی ایک مصلحت ہے اور یہ ایک الگ مضمون ہے۔ویسے قرآن کریم کے مضامین کے بطون تو لا محدود ہیں لیکن اس کا ایک بطن یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے (جیسا کہ انکار کیا گیا تھا) بلکہ فرمایا وہ غیب کی چابیاں رکھتا ہے۔وہ صاحب مَفَاتِحُ الْغَيْبِ ہے۔غیب کا علم رکھنے میں یہ تو نہیں آتا تھا کہ وہ کسی کو غیب سکھائے گا بھی لیکن چابی رکھنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ کسی کے لئے اسے کھولے گا۔تاہم جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے اُسے تو چابی کی ضرورت نہیں کیونکہ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔مَفَاتِحُ الْغَیب کا تعلق تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے