خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 2
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۷ رجنوری ۱۹۷۲ء بھروسہ ہی نہ ہو تو انسان بے صبرا ہو جائے گا کیونکہ انتہائی دُکھوں میں ڈالے جانے کے بعد انتہائی تو گل وہی انسان کر سکتا ہے۔(اور پھر تو گل ہی کے نتیجہ میں صبر پیدا ہوتا ہے) جسے یہ معلوم ہو اور جس کا یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جس نے شروع ہی سے ہماری راہنمائی اور کامیابی کے سامان پیدا کر رکھے ہیں۔ہماری استطاعت کے مطابق اور ہمارے ماحول کے لحاظ سے اور جو وقت کا تقاضا تھا اُسے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ہدایت کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔اگر ہم اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلیں گے، اُس کی ہدایتوں پر عمل کریں گے، تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم نا کام ہوں۔غرض جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنی کمزوری اور اپنے گناہ اور اپنی بے مائیگی کا احساس انتہا ء تک پہنچتے ہوئے بھی ایک انتہائی قادر مطلق خدا پر اُس کا ایمان ہوتا ہے۔اس کی صفات کی معرفت اُسے حاصل ہوتی ہے پھر جب وہ خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتا ہے تو غیر کی قائم کردہ روکیں اُسے ڈراتی نہیں۔وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا اذیتمونا میں مومنوں کی یہی صفت بتائی گئی ہے۔اس آیت میں تیسری بات وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَحَمُونَ ہے۔اس میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ عقلاً نہ فطرتا ، نہ شرعاً اور نہ مشاہدہ کے لحاظ سے کسی اور پر تو گل ہو سکتا ہے۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ایک یہی صداقت ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔تو کل اُسی پر کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہی حقیقی سہارا ہے۔پس وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَمِنُونَ کی رو سے جس آدمی نے تو گل کرنا ہو خواہ وہ ایک فرد ہو یا قوم، جس کو بھی یہ احساس ہو کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔مجھے کسی سہارے کی ضرورت ہے۔تو اس کی عقل بھی اُسے یہی مشورہ دے گی ، اُس کی فطرت کا بھی یہی تقاضا ہوگا اور بنی نوع انسان کی تاریخ کا بھی یہی نتیجہ نکلے گا کہ ایک ہی ہستی ہے جس پر تو گل کیا جا سکتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ہم زندہ خدا کی زندہ تجلیات کو دیکھنے والے اور اس یقین پر قائم ہیں کہ ہمیں بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ