خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 199
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹۹ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ کی جو شان ہے اور اس کی جو عظمت اور قدر ہے ، وہ اس کی ذات اور صفات کی معرفت پر منحصر ہے۔جتنا جتنا کوئی آدمی خدا تعالیٰ کو جانتا اور پہنچانتا ہے اور اس کی صفات کی معرفت رکھتا ہے وہ اسی قدر (اگر وہ اس کا بندہ بننا چاہتا ہے ) اس کے سامنے عاجزی اور انکسار کے ساتھ جھکے گا اور انتہائی خشوع کے ساتھ اطاعت اور فرمانبرداری کا جوا اپنی گردن میں ڈالے گا۔جس طرح کہنے والے نے لغت میں یہ کہہ دیا کہ جس کی عظمت زیادہ ہوگی جس کی شان زیادہ ہوگی۔جس کی کبریائی زیادہ ہوگی اسی نسبت کے ساتھ اس کے سامنے تذلل بھی زیادہ کرنا پڑے گا اور اس کی اطاعت بھی زیادہ کرنی پڑے گی۔چونکہ اللہ تعالیٰ خالق اور قادر اور حکیم اور مالک اور صاحب محسن حقیقی اور احسان کرنے والا یعنی تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور ہر قسم کی کمزور یوں اور نقائص سے منزہ ہے۔اس لئے حقیقی اور کامل اطاعت اللہ تعالیٰ ہی کی ہو سکتی ہے۔پس جس طرح اپنی جگہ یہ ایک حقیقت ہے یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے رب عظیم اور رب کریم کی صفات کی کامل معرفت رکھنے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تھے۔آپ کے علاوہ دنیا میں نہ کسی ماں نے ایسا بچہ جنا اور نہ کبھی جنے گی ، جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی کامل معرفت حاصل کی ہو اور اس کے نتیجہ میں کامل اطاعت اور فرمانبرداری کی راہ کو اختیار کیا ہو۔جب ہم ”عبد“ کے ان معنی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں عبدہ کے تفسیری معنے یہ نظر آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت کا ملہ تامہ رکھنے کی وجہ سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی عاجزی اور تذلل کرنے والے اور اس کی کامل اطاعت اور حقیقی فرمانبرداری کرنے والے تھے۔کیونکہ آپ خالی عبد نہیں تھے بلکہ عبدہ کے مقام پر فائز تھے۔آپ کا مقام اللہ تعالیٰ کے بندے کا مقام ہے یعنی ایک کامل عبد جیسا نہ آپ سے پہلے پیدا ہوا اور نہ آئندہ کبھی پیدا ہوگا۔اب ہم ان تین پہلوؤں کو دیکھتے ہیں پہلے بشریت اور عبد ہونے کا پہلو یعنی عاجزی اور تذلل کے اس مقام کا اعلان کہ میں تمہیں کب کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں۔