خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 181
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۱ خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ء کے باہر جونو جوان ہیں جن لوگوں کو ان کی تربیت کرنی چاہیے وہ بدقسمتی سے ان کی تربیت کا کما حقہ انتظام نہیں کر سکے یا جس طرح اسلام چاہتا ہے کہ ان کی تربیت کی جائے یعنی کوئی تعصب نہ ہو اور عقل و سمجھ سے کام لیا جائے۔اس طرح وہ ان کی تربیت نہیں کر پاتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نو جوانوں کے اندر بھی تعصب راہ پا جاتا ہے حالانکہ تعصب انسانی دماغ کو خراب اور عقل کو مار دیتا ہے۔بہر حال جو چیز میں بتا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ پہلی دفعہ ان دو گروہوں کے ووٹوں نے فیصلہ کرنا تھا۔ان میں سے ایک وہ گروہ ہے جو ۱۹۴۷ء میں آگے پیچھے پیدا ہوا۔یعنی اس وقت بچے تھے یا تھوڑے سال بعد پیدا ہوئے اور دوسرا وہ گروہ ہے جو اس زمانے میں سیاسی بلوغت کی عمر کو پہنچ رہے تھے۔یعنی ۲۱ سال کی عمر کو پہنچنے پر ووٹ دینے کا حق مل رہا تھا اور ان دونوں گروہوں کی ۱۹۴۷ء میں بھی بہر حال اکثریت تھی اور چونکہ نسل تو ویسے ہی بڑھ رہی ہے۔اس لحاظ سے اب بھی اکثریت ہے۔( آپ خود سوچیں اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاتا دیر ہو جائے گی ) اور ۱۹۴۷ء میں جولوگ چالیس، پچاس سال سے زائد عمر کے لوگ تھے ، ان کو خدا تعالیٰ نے یہ موقع نہیں دیا کہ وہ پاکستان کو صیح راہوں پر چلا سکیں۔البتہ ان کو یہ موقع ضرور دیا گیا کہ وہ پاکستان کو ہلاکت سے بچاسکیں اور پھر آخر میں تو انہوں نے اس موقع کو بھی ضائع کر دیا۔جس کے نتیجہ میں ملک کا ایک حصہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اور یہ اس گروہ کی دراصل بڑی ہی ناکامی ہے کہ وہ آدھا پاکستان ہم سے کٹ گیا ہے۔پس یہ تو پچھلے پچیس سال کی سیاست کے متعلق ایک بنیادی بات ہے جسے میں نے مختصراً بیان کر دیا ہے۔پاکستان کی اس اکثریت یعنی ان دو گروہوں نے جوا کثریت میں ہیں اور جو یا تو اس وقت نوجوان ہیں اور یا ۴۷ ء سے نوجوان اور عملی تجربہ حاصل کرتے ہوئے اب ۵۰ سال کے لگ بھگ ان کی عمر ہے دراصل انہوں نے ہی فیصلہ کیا ہے یعنی یہ ساری شکل جواب ہمیں نظر آ رہی ہے کہ فلاں پارٹی کی اتنی طاقت ہے اور فلاں پارٹی کی اتنی ، اس میں بڑا حصہ ان دونوں گروہوں کا ہے جنہیں پہلی دفعہ اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملا ہے۔