خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 180
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۰ خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ء جب انتخابات سے شاید ایک دن پہلے کسی نے مجھے یہ بتایا کہ یہ ان کا آخری تجزیہ ہے تو میں نے کہانہ سیاستدانوں کو کچھ پتہ ہے اور نہ یہ جو حکومت کے کان اور آنکھیں ہیں (پولیس و انٹیلی جینس ) انہوں نے صحیح اندازہ لگایا ہے۔دراصل وہ اس حصے یا ان دو گروہوں کو جن کے ووٹوں کی اکثریت تھی اور جنہوں نے اس موقع پر فیصلہ کن کردارادا کرنا تھا، بھول گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھ عطا فرمائی ہے۔ہمارے مستعد غیر متعصب اور نہایت اچھی تربیت پانیوالے نوجوانوں نے اس موقع پر بڑی سمجھ کے ساتھ کام کئے ہیں۔وہ ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ بات کرنے کے بعد ہر حلقہ انتخاب کے متعلق اپنی ایک رائے بھجواتے تھے اور اُنہوں نے یہ سلسلہ انتخابات سے کوئی ایک مہینہ پہلے سے شروع کر رکھا تھا۔مثلاً کسی حلقہ انتخاب میں ۴۰ فیصد آراء ہیں یا اپنی برادری کے لحاظ سے اتنے لوگ ہیں یا اتنے ڈاکٹر ہیں یا اتنے محنت کش ہیں۔اسی نسبت سے وہ ہر ایک سے پوچھتے تھے کہ تمہاری رائے کدھر ہے؟ چنانچہ ہر ایک گروہ کی آراء معلوم کرنے کے بعد وہ ہمیں رپورٹ بھجوا دیتے تھے۔چنانچہ جہاں حکومت کے کان اور آنکھوں نے یہ رپورٹ کی تھی کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے قومی اسمبلی میں ۷، ۸ نشستیں ملیں گی وہاں ہمارے نو جوانوں نے جن کو سیاسی تجربہ بھی کوئی نہیں تھا کیونکہ ہم ایک مذہبی جماعت ہیں ہم نے سیاست کی طرف کبھی خیال بھی نہیں کیا۔ہم تو اپنے نوجوانوں کو بھی یہی کہتے ہیں کہ قرآن پڑھو، حدیثیں پڑھو، نمازیں پڑھو اور دعائیں کرو اپنے لئے بھی ، ملک کے لئے بھی اور سب سے زیادہ غلبہ اسلام کے لئے ، اور بداخلاقی میں نہ پڑو۔مغربیت کا اثر نہ لو وغیرہ ، غرض ہمارے نو جوانوں کو تو اس قسم کی دینی تربیت دی جاتی ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فراست عطا فرمائی اور مستعدی بخشی تھی اس لئے ان کی آخری رپورٹ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے قومی اسمبلی میں ۶۲ نشستیں ملیں گی چنانچہ انتخابات میں واقعی انہوں نے ۶۲ نشستیں لیں ایک کی غلطی بھی نہیں ہوئی چنانچہ مجھے کسی نے بتایا کہ خود پیپلز پارٹی کے بعض لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ دُنیا میں اندازے ہوا ہی کرتے ہیں لیکن ایک کی بھی غلطی نہ ہو اور جو ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہمارا یہ انداز ہے اسی کے مطابق نشستیں مل جائیں بڑی حیران کن بات ہے۔یہ بات ان کے لئے واقعی حیران کن ہے کیونکہ ہماری جماعت