خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 178
خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ ء علم میں ایک وقت ایسا آنے والا تھا جب پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکتا۔چنانچہ اس وقت تک پاکستان کی حفاظت بھی کی گئی اور پاکستان میں تلخی پیدا کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نئی اور اُبھرنے والی نسل کی تربیت بھی کی گئی اور ان کو مستقبل کے متعلق سوچنے پر مجبور بھی کیا گیا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے پہلے دور میں جو پاکستانی شہری تھے ان کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ایک تو ۱۹۴۷ ء کے بچے، دوسرے ۱۹۴۷ ء کے نئے نئے اور ناتجربہ کار نوجوان اور تیسرے ۱۹۴۷ء کے ذرا بڑی عمر کے اور زیادہ بڑی عمر کے لوگ جنہیں تجر بہ تو تھا لیکن وہ عملاً قوم کے اندر ترقی کی روح پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔غرض ۱۹۴۷ء میں جو بچہ تھا وہ اس وقت جوان ہو چکا ہے۔۲۳، ۲۴ سال کی عمر کا ہو گیا ہے اور جو اُس وقت ۲۵ سال کے لگ بھگ تھے وہ اس وقت ۴۹،۴۸ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ شاید دو تہائی سے بھی زیادہ ہیں یعنی جو ۱۹۴۷ء میں بچے تھے اور اب جوان ہو چکے ہیں اور دوسرے جو اُس وقت بالکل نا تجربہ کار نوجوان تھے اور اب ادھیڑ عمر کے قریب پہنچ گئے ہیں ان ہر دو گروہوں کے متعلق خدا کی شان یہ نظر آتی ہے کہ اس پچیس سالہ دور میں ان کو حکومت میں کوئی دخل نہیں ملا۔بلکہ حکومت کی باگ ڈور زیادہ تر ان لوگوں کے ہاتھ میں رہی ہے جو اس وقت پچاس سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔ان میں سے بھی ایک حصہ تو بہت اچھا رہا۔مگر دوسرا حصہ ملک کی تباہی اور قوم کی ہلاکت کا باعث بنا البتہ اس گروہ کو بھی ہم کلیۂ بُرا نہیں کہہ سکتے ان میں بعض بڑے اچھے لوگ بھی تھے لیکن خرابی یہ تھی کہ ان کی بات بھی ٹھیک طرح مانی نہیں جاتی تھی کیونکہ ڈکٹیٹر شپ یعنی مارشل لاء کا زمانہ تھا یا پھر Compromise ( کامپرومائز ) کا زمانہ تھا۔اس کا مپرومائز یعنی سیاسی طور پر باہمی سمجھوتے کی یہ صورت بن جاتی ہے کہ باہمی سمجھوتہ کر لو۔اپنی بعض اچھی چیزیں چھوڑ دو اور دوسرے کی بُری چیزیں لے لو۔غرض پچھلے پچیس سالہ دور میں یہی دوخرابیاں کارفرما ر ہیں۔بہر حال اس وقت پہلی دفعہ ایک نیا گروہ اُبھرا ہے جو دراصل دو گروہوں پر مشتمل ہے جن