خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 166

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۶۶ خطبہ جمعہ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء کے لئے دن رات محنت میں لگے ہوئے ہیں۔اب جس جماعت کے عہد یدار اس قسم کی لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ وہ جماعت مالی قربانیوں میں بھی آگے نکل جاتی ہے چنانچہ ابھی کل ہی مجھے جماعت احمدیہ کراچی کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے اپنے سالانہ بجٹ سے قریباً دس ہزار روپیہ زاید جمع کر دیا ہے حالانکہ ابھی موجودہ مالی سال ختم نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اب یہ بڑا خوش کن نتیجہ ہے۔ہزار ہا دوست مالی قربانی دینے والے کراچی کی جماعت میں شامل ہیں۔اُنہوں نے بحیثیت مجموعی بڑی اچھی قربانی دی ہے۔انہوں نے جو وعدے کئے تھے ان میں وہ آگے نکل گئے ہیں۔پھر جہاں تک وقت کی قربانی کا تعلق ہے اس لحاظ سے بھی کراچی نے بڑی قربانی دی ہے وہاں کا جماعتی نظام پورا چوکس اور بیدار ہے۔علاوہ ازیں پورے سال کے کام کو سارے سال پر پھیلا کر کرنے کی بدولت بھی وہ اچھا نتیجہ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ممکن ہے اسی طرح کی بعض اور جماعتیں بھی ہوں کیونکہ بہت سارے دوستوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اپنا بجٹ پورا کر چکے ہیں۔میں نے ہر ایک سے یہی کہا تھا کہ اپنے بجٹ سے دس فیصدی زیادہ چندے دو۔اب بجٹ سے دس فیصدی زیادہ چندے دوست دے سکتے ہیں یا نہیں یہ تو خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال کو وصول کرنے کی ایک زائد خواہش ہے اور ان لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں مال دینے کی ایک زائد خواہش ہے تاہم کئی دوسری جگہوں سے بھی اطلاع آئی ہے کہ اُنہوں نے نہ صرف اپنا بجٹ پورا کر دیا ہے بلکہ اس سے آگے نکل گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔پس جن جماعتوں نے اپنا بجٹ پورا کر کے دس فیصدی زائد چندے دینے کی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے وہاں آپ کو جماعتی نظام یعنی جو عہد یدار ہیں وہ ہر لحاظ سے خصوصاً وقت کی قربانی کے لحاظ سے زیادہ تندہی سے کام کرنے والے یا زیادہ وقت دینے والے نظر آئیں گے۔غرض جہاں تک اموال کی قربانی کا سوال ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری جماعت آگے