خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 165
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۶۵ خطبہ جمعہ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء رہ گئے۔جماعت کا اکثر حصہ تو پیچھے نہیں رہا۔اب ہمارا موجودہ مالی سال چند دنوں تک ختم ہو رہا ہے۔اگر ہم اس کا بھی جائزہ لیں تو دوستوں کی بڑی بھاری اکثریت ایسی ہے جو بحیثیت جماعت ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہے اور وہ عملاً دے بھی رہے ہیں اور بہت بھاری اکثریت ایسے دوستوں کی ہے جو سلسلہ کے کاموں کے لئے اپنا وقت قربان کرتے ہیں اپنے آرام کو قربان کرتے ہیں، اپنی توجہ کو قربان کرتے ہیں مثلاً وہ اپنی توجہ اپنے بیوی بچوں کی طرف پھیر سکتے تھے مگر وہ اپنی اس تو جہ کو الہی سلسلہ کے کاموں کی طرف پھیر دیتے ہیں۔وہ درد جو اپنے محدود ما حول کے لئے ان کے دلوں میں پیدا ہو سکتا تھا وہی دردوہ جماعت کے لئے اور پھر بنی نوع انسان کے لئے اپنے دل میں پیدا کرتے ہیں اور خدمت کے جذبہ سے معمور اکثر خدمت خلق میں مشغول رہتے ہیں۔چنانچہ ایسی مثالیں کثرت سے ہیں جن میں اس وقت بڑی نمایاں مثال جماعت احمدیہ کراچی کی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔جہاں تک مالی قربانی کا سوال ہے ساری جماعت ہی مالی قربانی دینے کے لئے تڑپتی رہتی ہے لیکن جہاں نظام قائم ہو اور نظام میں پختگی پائی جاتی ہو وہاں کے بہت سے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ نظام کے ماتحت محصل جائے گا اور وہ پیسے وصول کرے گا اور رسیدمیں دے گا۔پس احباب میں چندے دینے کی تڑپ کی کمی نہیں ہوتی۔یہ نظام کی شستی یا نظام میں چستی کی کمی ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے وقتی طور پر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ فلاں حلقہ مالی قربانیوں کے دینے میں پیچھے رہ گیا ہے۔جہاں تک وقت کی قربانی کا سوال ہے اس کے متعلق میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا کہ خود میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ وہ لوگ جو بظا ہر اپنے دُنیا کے کاموں میں پڑے ہوئے ہیں وہ پانچ پانچ چھ چھ گھنٹے اور بعض دفعہ تو میرا خیال ہے کہ ہمارے صدر انجمن احمد یہ اور دوسرے اداروں کے کارکنوں سے بھی زیادہ وقت رضا کارانہ طور پر جماعتی کاموں کے لئے خرچ کرتے ہیں اور بڑی محنت اور بڑے پیار اور بڑی توجہ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور سلسلہ احمدیہ جسے خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لئے قائم فرمایا ہے۔اس کے لئے تڑپ رکھتے ہیں اور اس کی ترقی