خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 158

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵۸ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء دل میں پیدا کر لو گے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے دیکھو گے اور تم پر اس کی نعمتیں نازل ہوں گی۔فرما یاو لاتم نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہو نے والی اُمت ( جسے ہم اُمت مسلمہ کہتے ہیں ) تم پر اتمام نعمت ہو جائے گی۔پھر دنیا یہ ماننے پر مجبور ہو جائے گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام بنی نوع انسان اور تمام مخلوق کے رب نے وہ پیار جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس اُمت سے کیا وہ پیار اور کسی سے نہیں کیا۔پھر فرمایا وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اس پیار کے نتیجہ میں کامل اور آخری کامیابی تمہیں نصیب ہو گی۔مگر دامن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دفعہ پکڑ کر پھر اس کو چھوڑنا نہیں۔پھر تم خدا تعالیٰ کی آنکھوں میں اپنے لئے وہ پیار دیکھو گے جو دنیا کے سارے خزانوں اور دنیا کی ساری نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہے پھر تمہیں کسی کی کیا پر واہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک ذمہ داری تم پر یہ بھی ہے کہ اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ۔فرماتا ہے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ تین مساجد جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہیں ان کے ظل کے طور پر مساجد بھی بنائی جائیں (اگر وہ مسجد ضرار نہ ہوں یعنی وہ مسجد میں جن کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ ذکر آیا ہے کہ بلکہ ایسی مساجد ہوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اُيْسَ عَلَى التَّقوى - (التوبة: ۱۰۸) یعنی جو پہلے دن ہی خلوص نیت کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اس سے ڈرتے ہوئے اور اس کی پناہ میں آنے کی غرض سے بنائی جاتی ہیں۔ایسی مسجدوں کے متعلق خدائی فیصلہ یہ ہے کہ ان کے دروازے ہر موحد کے لئے کھلے ہیں۔خواہ وہ اسلام قبول کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔وہ موحد ہونا چاہیے۔پس یہ وہ عمل کا مقام ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق عمل کیا جائے تو یہ امر ہر قسم کے شر اور فساد کو دور کرنے والا ہے لیکن اس بات کو پھر واضح کر دیا۔فرمایا یا درکھنا فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ احدًا خدا کے اس گھر میں غیر اللہ کی عبادت نہیں ہوگی۔اگر چہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے راستے میں بھی روکیں پیدا کی جائیں گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ أَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ ل وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدَ اضِرَارًا وَ كَفَرَا وَ تَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ - (التوبة: ١٠٧)