خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 159
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵۹ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا - (الجن : ۲۰) یعنی مساجد کے دروازے خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والوں پر بند کر دیئے جائیں گے وہ پرستش کرنے والے جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ ہوگی۔مگر وہ جو آنکھوں سے محروم ہیں۔وہ جن کو بصارت عطا نہیں ہوئی اور وہ جن کو روحانی طور پر فراست نہیں ملی وہ ایسے لوگوں پر بھی خدا تعالیٰ کی مسجدوں کے دروازے بند کر دیں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ سے سوزاں ہوں گے۔لیکن خدا تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اس شخص پر مسجد کے دروازے بند کر تے ہو جو علی الاعلان یہ کہتا ہے إِنَّمَا ادْعُوا رَبّی میں خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والا ہوں۔اس لئے ہر وہ شخص جو خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنا چاہتا ہے اس کے لئے مساجد کے دروازے کھلے ہیں۔پھر فرما یا تم اس شخص پر مسجد کے دروازے بند کرتے ہو جو کہتا ہے وَلَا اشْرِكُ بِہ اَحَدًا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے نظارے دیکھنے کے بعد شرک کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو موحد ہے ہم اس کو یہ کہتے ہیں کہ شرک کی باریک راہوں سے بچنے کی کوشش کرتارہ اور ہماری مسجدوں میں آتارہ اللہ تعالیٰ ہمارے طفیل شاید تمہاری بھلائی کے سامان بھی پیدا کر دے گا۔غرض یہ بھی ایک مسجد ہے جو مساجد نبوی کے ظل کے طور پر بنائی گئی ہے۔یہ ایک اور مسجد ہے جس کے بنانے کی کوشش اور جس کے بنانے میں محنت کرنے والوں کا ایک حصہ تو یقیناً ایسا ہے جنہوں نے شروع ہی سے تقویٰ کے طریق پر اور دعاؤں کے ساتھ اس مسجد کے ذرہ زرہ میں برکت ڈالنے کی کوشش کی۔جب کہ دوسرے حصے کے متعلق ہم یہ حسن ظن رکھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس سلسلہ میں پیسے دیئے تو وہ نیک نیتی کے ساتھ دیئے۔اگر محنت کی تو وہ صدق دل کے ساتھ کی اور اگر وقت دیا تو وہ خلوص نیت کے ساتھ دیا تا کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اس عمارت کو ان کے لئے الہی برکتوں کا موجب، اس کی رحمتوں کے حصول کا ذریعہ، اس کے فضلوں کو جذب کرنے کا سبب بنا دے۔ہماری یہ دعا ہے کہ خدا کرے ہم سب کی دعائیں قبول ہو جائیں۔خدا کرے