خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 131
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳۱ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء مانگی اور نہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ وعدہ دیا تھا کہ جو بھی تیرے خلاف بدزبانی کرے گا یا غلط بات کہے گا اسے ہم فوری طور پر قہری تجلی سے ہلاک کر دیں گے۔یہ تو خدا تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہے۔خدا تعالیٰ کے فعل کے خلاف ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے خلاف ہے اور یہ بات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منشاء کے بھی خلاف ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود میں بھی خدا تعالیٰ کی صفات جلوہ گر ہیں۔اس لئے جو بات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کی اس کے متعلق میں علی وجہ البصیرت یہ کہتا ہوں کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی صفات کے خلاف ہے۔اس لئے اے گدی والے ولیو! تم یہ ساری لڑائی عملاً خدا اور اس کی صفات اور خدا کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑ رہے ہو۔اب اس بے ہودگی کی بناء پر تمہاری ولایت کی گدی کی کیا قدر و قیمت باقی رہ جاتی ہے۔میں نے بتایا ہے ہم لاکھوں میں ہیں اور شاید جلد ہی کروڑوں تک پہنچ جائیں گے۔ان لاکھوں میں سوائے چند ایک گنتی کے منافقین کے ہر ایک مخلص احمدی اس قسم کی ولایت کی گدیوں کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمتوں اور برکتوں سے خدا کے قہر کا مورد نہیں بلکہ اس کے پیار کا مورد ہے۔تم سے جو ایک دو نفرت کرنے والے قضائے الہی سے فوت ہو جاتے ہیں وہ تمہاری بزرگی کے ثبوت کی دلیل کیسے بن گئے۔حالانکہ لاکھوں، لاکھوں ، لاکھوں اس بزرگی کی تردید کے لئے زندہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے سایہ میں روحانی لذت اور سرور کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔پس اگر کوئی ایسا ولی ہے اور بعض کے متعلق پتہ لگا ہے کہ وہ ایسے ہیں تو ان کو تو بہ کرنی چاہیے اور استغفار کرنا چاہیے ورنہ ان کا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیار کا دعویٰ ایک لغو دعویٰ بن جاتا ہے کیونکہ جب عمل اس کا ثبوت نہ دے تو دعوی لغو ہوتا ہے لیکن اگر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار کا دعوی ہے تو پھر آپ کی سنت کو اپنا نا پڑے گا۔اگر خدا تعالیٰ سے عشق ہے تو پھر خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی صفات کے جو جلوے دکھائے ہیں وہ صفات اپنے اندر پیدا کرنی پڑیں گی۔