خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 130 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 130

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳۰ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء اُن کے لئے قہر الہی نہیں مانگا۔غرض خدا تعالیٰ نے تو اس قسم کا کسی کے ساتھ وعدہ نہیں کیا ہوا کہ جو نہی وہ کسی کے لئے بددعا کرے وہ ہلاک ہو جائے۔پھر یہ بات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے بھی خلاف ہے۔مگر اس قسم کے گدی والے ولی بڑی دلیری کے ساتھ اپنی ولایت کے حق میں وہ دلیل دیتے ہیں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ دنیا میں مقبول ہو جائیں گے۔پس قبل اس کے کہ خدا تعالیٰ جس طرح اپنی جماعتوں کے خلاف منصوبوں کو تباہ کرتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کا زبر دست قومی اور طاقتور ہاتھ تمہارے اس فتنہ کو تباہ کر دے اور تمہارے لئے تکلیف کا باعث بن جائے تم استغفار کرو اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہی تمہارا بھی رزاق ہے۔تم مانگنا چھوڑ دو۔وہ خدا جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار کرنے والا ہے۔تم اُس کے پیار کے جلوے دیکھو کہ وہ کس رنگ میں انسان پر ظاہر ہوتے ہیں۔تم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا مطالعہ کرو۔تم دیکھو گے کہ اس عظیم انسان نے کسی کے لئے کبھی بددعا نہیں مانگی کیونکہ آپ ہر ایک کے لئے رحمت تھے۔آپ کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ آپ رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸ ) ہیں۔آپ پہلوں کے لئے بھی رحمت تھے اور بعد میں آنے والوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔آپ کی رحمت مکان اور زمان کے حدود کو پھلانگتی ہوئی ہر انسان تک پہنچی۔آپ کے وجود سے ہرانسان نے خیر و برکت ہی پائی اور اگر کسی نے نہیں پائی تو اس نے اپنی حماقت کے نتیجہ میں نہیں پائی کیونکہ وہ تو خیر محض تھا۔وہ تو خیر لے کر ہر ایک انسان کے پاس پہنچتا تھا۔اُس نے رحمت کے سامان لے کر ہر انسان کے دروازے کو کھٹکھٹایا اور فرمایا کہ میں تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کی برکتوں کے سامان لے کر آیا ہوں۔کچھ لوگوں نے اُن رحمتوں اور برکتوں سے اپنے گھروں کو بھر لیا اور وہ خدا تعالیٰ کے پیارے بن گئے۔کچھ لوگوں نے اس رحمت اور برکت کو دھتکار دیا اور وہ خدا تعالیٰ کے غضب کا مورد بن گئے۔مگر آپ نے کسی کے لئے بددعا نہیں