خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 123
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۳ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء گن گن کر نیکیاں کرو گے تو گن گن کر تمہیں جزا مل جائے گی مگر گن گن کر جو جزاء ہوتی ہے وہ تو کافی نہیں ہوتی۔اگر آپ سمجھیں اور سوچیں تو وہ نہ میرے لئے کافی ہے اور نہ آپ کے لئے کافی ہے۔اس چھوٹی سی زندگی میں ہزار غفلتوں اور کوتاہیوں کے بعد انسان آخر کتنی نیکیاں کر لیتا ہے جن کے بدلے کی وہ امید رکھے اور سمجھے کہ وہ ابدی زندگی کے لئے کافی ہو جائے گا مثلاً اگر تم گن کر دس روٹیاں خدا کی راہ میں دو گے تو اس کے وعدہ کے مطابق گنی ہوئی سو روٹیاں تمہیں مل جائیں گی کیونکہ یہ اس کا وعدہ ہے کہ ایک نیکی کے بدلے دس گنا زیادہ ثواب ملے گا لیکن سو روٹیاں تو تمہاری اس تھوڑی سی زندگی کے لئے بھی کافی نہیں ہیں۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کی راہ میں گن کر دو گے تو تم گھاٹے میں رہو گے۔تم ہلاک ہو جاؤ گے اس لئے تم خدا تعالیٰ کی راہ میں کوئی چیز گن کر نہ دو بلکہ ہر وہ چیز جس کے تم مالک ہو تم وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دو۔پھر تم خدا تعالیٰ سے یہ کہو کہ اے خدا ! حساب کوئی نہیں اگر تو نے ہمارا حساب کیا تو پھر تو ہم مارے گئے۔اس لئے ہم نے خلوص کے ساتھ اور نیک نیتی کے ساتھ جو کچھ ہم کر سکتے تھے وہ ہم نے تیرے حضور پیش کر دیا ہے۔اس خیال سے نہیں کہ ہماری اس پیشکش میں کوئی خوبی ہے جسے تو ضرور قبول فرمائے گا بلکہ اس امید اور اس دعا کے ساتھ کہ تو باوجود ہزار کمزوریوں کے ان عاجز بندوں کی پیشکش کو محض اپنے فضل سے قبول فرمائے گا۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک صحیح رد عمل کی توفیق عطا فرمائی ہے وہاں آپ یہ دعا بھی کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عاجزانہ راہوں پر چلنے کی توفیق بخشے اور ہم پر اس کے بے شمار فضل اور بے انتہا رحمتیں ” بِغَيْرِ حِسَابِ نازل ہوتی رہیں۔تیسری بات جو میں اس وقت کہنی چاہتا ہوں۔وہ ایک اور قسم کے فتنہ کے متعلق ہے جو نفاق کے ساتھ بہت ملتا جلتا ہے البتہ اس کی شکل کچھ بدلی ہوئی ہے اور اس کے متعلق اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ جس وقت واقع میں اور حقیقی طور پر دینا اللہ کہتا ہے اور پھر وہ پوری کوشش اور مجاہدہ کے ذریعہ اور انتہائی عاجزانہ دعاؤں کے نتیجہ میں استقامت دکھاتا ہے تو