خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 118
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۱۸ خطبہ جمعہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۷۲ء گھروں میں بچوں کے نام رکھ لیتے ہیں۔کسی کو خیال آتا ہے تو وہ مجھ سے بھی نام رکھوا لیتا ہے کئی دوست مجھ سے پیار کا اظہار کرنے کے لئے یہ بھی لکھ دیا کرتے ہیں کہ بچے کی والدہ یا والد ، دادا یا دادی، نانا یا نانی یا کسی اور عزیز کو خواب آیا ہے کہ اس بچے کا یہ نام رکھا جائے۔اس لئے آپ بھی یہ نام رکھ دیں۔چنانچہ ایسے دوستوں کے لئے میں دعا کر دیتا ہوں اور ان کو لکھوا دیتا ہوں کہ یہی نام رکھ دو۔اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔پس جب روزانہ پیدا ہونے والے کئی بچوں کے نام رکھے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں بھی ہمارے کئی بچے روزانہ شامل ہورہے ہیں یعنی جو بچے اس مقررہ عمر کو پہنچے وہ اس میں شامل ہو گئے۔غرض ہم نے کمی کی طرف نہیں جانا بلکہ آگے ہی بڑھنا ہے۔ہم نے بڑھنا ہے، بڑھنا ہے اور ہر جہت میں بڑھنا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ہم نے اپنی اُن تمام کھلی جگہوں کو جنہیں انگریزی میں Open Spaces (اوپن سپیسر ) کہتے ہیں خوش نما بھی بنانا ہے اور ان کو اس قابل بھی بنانا ہے کہ وہ تعفن کی جگہیں نہ رہیں بلکہ خوشبو دار جگہیں بن جائیں۔ہمارے لئے آکسیجن بہت ضروری ہے۔اس لئے ان جگہوں پر درخت بھی لگنے چاہئیں۔یہ درخت Lungs (لنگز ) بھی کہلاتے ہیں اور یہ ہے بھی حقیقت کیونکہ شہروں میں یہ درخت وہی کام دیتے ہیں جو انسانی جسم کے لئے پھیپھڑے کام دیتے ہیں۔اس لئے ہم نے درختوں کو واقع میں اپنی صحت کے قیام کے لئے پھیپھڑے بنانا ہے۔پھر ان جگہوں کو ورزش کے لئے ہموار کرنا ہے۔ان میں گھاس لگانی ہے۔اس لئے یہ لمبا پروگرام ہے۔اس کے کچھ حصے انشاء اللہ اسی سال پورے ہو جائیں گے اور کچھ اگلے سال مکمل ہوں گے مثلاً یہ جو چھوٹے درخت ہیں یعنی موسمی نہیں بلکہ مستقل رہنے والے یعنی سدا بہار یہ عموماً تین سال کے بعد قد نکالتے اور شکلیں بدلتے ہیں۔اگر ہم نے یہ کام آج سے بیس سال پہلے شروع کیا ہوتا تو آج ربوہ کی شکل ہی اور ہوتی پھر ربوہ کے مکینوں کی صحتیں بھی یقیناً اس سے بہتر ہوتیں جو آج ہمیں نظر آ رہی ہیں۔بہر حال یہ کام تو اب شروع ہو چکا ہے اب آپ کو اس میں کسی قسم کی سستی اور غفلت نہیں