خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 96
خطبات ناصر جلد چہارم ۹۶ خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء پہلے آنے والوں نے کہا اپنے اپنے رنگ میں۔چنانچہ جب مجھ سے ۱۹۶۷ء میں پوچھا گیا کہ آپ کا تعلق جماعت احمدیہ سے کیا ہے؟ تو میں نے کہا یہ سوال غلط ہے۔اس لئے کہ میں اور جماعت احمد یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔ان کو علیحدہ علیحد ہ نہیں کیا جا سکتا۔غرض آپ نے فرمایا:۔جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی۔ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں۔جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے۔پس جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا۔ان پر رائے زنی نہ کرو۔مجھ تک یہ رپورٹ بھی پہنچی ہے کہ بعض بیوقوف کمزور ایمان والے یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ مجد دتو اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور خلیفہ انسان بناتا ہے۔اس بارہ میں موٹی بات تو یہ ہے کہ مجد دکون بناتا ہے اور کون نہیں بناتا اس کے متعلق ہمیں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ملتا ہے۔قرآن کریم میں اس کے متعلق کوئی ارشاد نہیں۔سارے قرآن کریم میں مجدد کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔خلیفہ کون بناتا ہے اور کون نہیں بناتا، اس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے۔لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم - خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ میں بنا تا ہوں اب جس کے متعلق قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بناتا ہوں اس کے متعلق تو کہتے ہیں کہ خدا نہیں بنا تا اور جس کے متعلق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا نہیں بناتا اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ خدا بناتا ہے۔حالانکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کریم سے زائد کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے تھے ورنہ قرآن کریم کامل اور مکمل نہیں ٹھہرتا۔جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ مجدد اللہ تعالیٰ بناتا ہے یا مبعوث کرتا ہے تو آپ کا یہ ارشاد ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کی تفسیر تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے فرمایا مجددبھی ایک خلیفہ ہے اور خلیفہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُسے میں بناتا ہوں۔انسان نہیں بناتا کیونکہ جو خلیفہ آئے گا وہ خدا بنائے گا دوسرے یہ کہ وہ لوگ جنہیں ہمارے دربار سے اجازت نہیں ملی تب بھی خلافت کی بحث میں اُلجھتے ہیں۔اُن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آخر یہ کون کہے گا کہ یہ مجدد ہے۔اس کو خدا تعالیٰ نے