خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 95

خطبات ناصر جلد چہارم ۹۵ خطبہ جمعہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۷۲ء نسل اور نئے آنے والوں کو یہ پتہ لگے کہ اس سلسلہ میں کیا جھگڑے ہوئے اور کیا فیصلے ہوئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔اسلامی اصول کے مطابق یہ صورت ہے کہ جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے اور آخری اتھارٹی جسے خدا نے مقرر کیا اور جس کی آواز آخری آواز ہے وہ خلیفہ کی آواز ہے۔کسی انجمن، کسی شوری یا کسی مجلس کی نہیں ہے یہی وہ بات ہے جس پر جماعت کے دوٹکڑے ہو گئے۔خلیفہ کا انتخاب ظاہری لحاظ سے بے شک تمہارے ہاتھوں میں ہے۔تم اس کے متعلق دیکھ سکتے اور غور کر سکتے ہومگر باطنی طور پر خدا کے اختیار میں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے خلیفہ ہم قرار دیتے ہیں اور جب تک تم لوگ اپنی اصلاح کی فکر رکھو گے۔اُن قواعد اور اصولوں کو نہ بھولو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہیں۔تم میں خدا خلیفہ مقرر کرتارہے گا اور اُسے وہ عصمت حاصل رہے گی جو اس کام کے لئے ضروری ہے۔خالی اتنا نہیں کہ خدا خلیفہ بناتا ہے بلکہ ساتھ یہ بھی ہے کہ اگر خدا خلیفہ بناتا ہے تو یہ بات جو حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے مختصراً کہی اور جس کی وضاحت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے کی وہ بھی ماننی پڑے گی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ آپس کے جھگڑے اور اختلافات کے متعلق فرماتے ہیں:۔سنو! تمہاری نزاعیں تین قسم کی ہیں۔ان میں سے میں نے دو کو لیا ہے جن کا یہاں تعلق ہے ) اول ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔جو حضرت کے فیصلے کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی نہیں۔“ 66 پھر فرماتے ہیں دوسرے وہ یعنی بعض ایسے مسائل جو تفصیل کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور آئندہ سامنے آنے والے تھے کیونکہ بعض مسائل سلسلہ خلافت شروع ہوتے ہی سامنے آجاتے ہیں۔سلسلۂ خلافت شروع ہونے سے قبل ظاہر نہیں ہوتے مثلاً یہی مسئلہ کہ خلیفہ وقت اور جماعت احمدیہ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اس کا ایک یہ حل ہے جو میں نے پیش کیا۔ایک رنگ میں اور مجھ سے