خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 85 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 85

خطبات ناصر جلد چہارم ۸۵ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے وہ جماعت کے سامنے آنے چاہئیں تا کہ ہمیں پتہ لگے کہ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کیوں کہا گیا ہے۔آج کل ایک سے زاید گروہ یا بعض افراد منافقانہ باتیں کر رہے ہیں۔اُن میں سے بعض باتوں کے متعلق میں اس وقت کچھ کہوں گا یہ بتانے کے لئے کہ جو باقی باتیں ہیں وہ بھی اسی قسم کے جھوٹ ، افتراء، فتنہ پردازی، اتہام تراشنے ، حقائق کو چھپانے اور عدم علم کی بنا پر اعتراض کرنے وغیرہ سے متعلق ہیں۔دراصل یہ سب چالیں ہیں جن سے منافق کام لیتا ہے اور یہ سب ہتھیار ہیں جن سے شیطان اپنا کام لے رہا ہوتا ہے۔پس وضاحت کرنے کے لئے میں چند مثالیں دوں گا۔باقی رطب و یابس تو وہ بولتے ہی رہتے ہیں جسے سُن کر آپ کو اپنے اپنے ایمان کے مطابق غصہ بھی آتا ہو گا۔آپ اُن کے لئے دُعائیں بھی کرتے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور اُن کی بد قسمتی کو دور کرے اور اُن کے فتنے سے جماعت کو محفوظ رکھے اور اُن کو عقل دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خلافت بڑے لمبے زمانہ پر ممتد ہے۔بڑی شاندار اور کامیاب بھی ہے لیکن اس دور میں بھی وقفے وقفے کے بعد منافقین کے فتنے آتے رہے ہیں۔مثلاً مصریوں کا فتنہ ہے مگر چونکہ ہماری نوجوان نسل شایدان واقعات کو نہیں پڑھتی اس لئے اُن کے کان ان چیزوں سے آشنا کم ہوں گے۔پھر فخر الدین ملتانی کا فتنہ تھا۔غرض اسی طرح کے چھوٹے اور بڑے فتنے اس لئے آتے رہتے تھے کہ ہم سو نہ جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیں بیدار اور چوکس دیکھنا چاہتا ہے۔منافقوں کے مختلف گروہ یا افراد آج کل جو باتیں کر رہے ہیں اُن ہی سے سات کے متعلق میں اس وقت کچھ کہوں گا اور ان کی اہمیت کے لحاظ سے بڑھا تا جاؤں گا۔اول۔ایک یہ اعتراض سننے میں آیا ہے کہ یہ عجیب خلیفہ ہے جو اپنے خطبات میں بھی گھوڑوں کے متعلق باتیں کرتا رہتا ہے اور جماعت کو کہتا ہے کہ گھوڑے پالو اور یہ اور وہ۔بھلا روحانی جماعت کا گھوڑوں سے کیا تعلق؟ اب یہ منافقانہ بات ہے اور محض جہالت کی بناء پر کی گئی ہے۔جس وقت میں نے گھوڑوں کے