خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 86 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 86

خطبات ناصر جلد چہارم ۸۶ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء متعلق بات کرنی شروع کی تو میں نے بعض دوستوں سے کہا کہ وہ گھوڑوں کے متعلق حضرت نبی اگریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے اقوال اکٹھے کریں۔چنانچہ یہ کاپی ہے جسے آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں۔میں نے اس کا نام ”کتاب الخیل رکھا ہے اور یہ پونے چار سو صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں اکثر اقوال اور ارشادات حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں۔ان کے علاوہ بھی آپ کے بہت سے ارشادات ہیں جو ا کٹھے نہیں ہو سکے۔پس اگر روحانی آسمان کا بادشاہ گھوڑوں کے متعلق اتنا کچھ کہنے کے باوجود روحانی آسمان کا بادشاہ رہتا ہے تو اس کا ایک ادنیٰ خلیفہ گھوڑوں کے متعلق تمہیں چند باتیں کہتا ہے (اور اس وجہ سے کہتا ہے جو میں ابھی بتاؤں گا ) تو اُس کے متعلق یہ اعتراض کر دینا کہ جی یہ عجیب خلیفہ ہیں۔گھوڑوں کے متعلق باتیں کرتے ہیں اور گھوڑے پالتے ہیں سراسر افتراء پردازی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بتایا ہے کہ قیامت تک گھوڑے کی پیشانی میں ایک مسلمان کے لئے برکت رکھی گئی ہے۔جب میں اس پیشانی کی برکتیں تمہاری جھولیوں میں ڈالنا چاہتا ہوں تو منافق کہتا ہے۔یہ عجیب خلیفہ ہے جو گھوڑوں کی باتیں کرنے لگ گیا ہے۔منافقو ! تم اس پاک ذات پر اعتراض کرو جس نے ہے۔منافقو گھوڑوں کے متعلق اتنا کچھ فرمایا ہے کہ آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے چنانچہ بڑے بڑے ماہرین جو دن رات اسی شغل میں لگے ہوئے ہیں کہ گھوڑوں کے متعلق تحقیق کریں۔اُنہوں نے بھی وہ نہیں کہا اور اتنا نہیں کہا اور اس حقیقت کو بیان نہیں کیا کہ جتنی حقیقت گھوڑوں کے متعلق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ ایک دن مجھے سے غفلت ہو گئی تو مجھے ساری رات یہ کہا گیا کہ تم نے کیوں غفلت کی ؟ گھوڑوں کا کیوں خیال نہیں رکھا ؟ آپ اپنی چادر کے ساتھ گھوڑے کو صاف کر رہے تھے تو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کیوں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ فرمایا ہے کہ تو نے گھوڑے کا خیال نہیں رکھا اس لئے اب میں اس کی تلافی کر رہا ہوں وہ تو روحانیت لیکن اگر وہی برکت تمہاری جھولی میں ڈالنے کی کوشش کی جائے تو وہ وجہ اعتراض بن گئی۔اس قسم کے بے ہودہ اعتراضات کئے جاتے ہیں۔