خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 75
خطبات ناصر جلد چہارم ۷۵ خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۷۲ء کر وایا جائے تاکہ کھیلوں کی طرف دلچسپی پیدا ہو۔سیر کا بھی ٹورنامنٹ ہوسکتا ہے اس کے لئے میں انعام مقرر کر دیتا ہوں مثلاً پانچ میل سیر کا مقابلہ ہو اور دوست آکر یہ بتائیں کہ انہوں نے سیر میں خدا تعالیٰ کی قدرت کے کیا کیا جلوے دیکھے۔جب وہ یہ لکھ کر دیں گے یا جسے لکھنا نہیں آتا وہ زبانی بتا ئیں گے تو اس مقابلہ میں جو اول آئے گا۔اس کو پچاس روپے کا انعام میری طرف سے دیا جائے گا۔آخر خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے اسی لئے ہیں کہ ہم ان کو دیکھیں اور ان پر غور کریں۔اس طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ پیار بڑھتا ہے۔بعض دفعہ ایک چھوٹی سی چیز ہوتی ہے لیکن اس میں بھی بڑا حسن نظر آتا ہے مثلاً یہ چھوٹی سی تلی جو ادھر سے اُدھر اُڑ رہی ہوتی ہے۔اس کے او پر رنگ اس قدر خوبصورت اور خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے مختلف رنگوں کے بیل بوٹے اس ہوشیاری کے ساتھ بنائے ہوتے ہیں کہ اگر انسان بنائے تو وہ کہے کہ میں اس کو شاید دس ہزار روپے میں بیچوں گا کیونکہ اس پر میرا بڑا وقت لگا ہے۔اس پر میں نے بڑا خرچ کیا ہے اور بڑی دماغ سوزی کی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور اس مادہ کو حکم دیا تو وہ خوبصورت تتلی کی شکل میں ہمارے سامنے آجاتی ہے لیکن آپ گزر جاتے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ یہ اتفاق سے آپ کے سامنے نہیں آگئی ( دُنیا میں اتفاق کا لفظ غلط طور پر استعمال ہوتا ہے ) اُسے تو متصرف بالا رادہ ہستی نے پیدا کیا ہے یہ کسی اندھے اور اندھیرے میں بسنے والے آدمی کا اتفاق نہیں ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے جلوے ہیں جو تمہارے سامنے آتے ہیں تا کہ تم ان پر غور کرو اور اُن سے فائدہ اُٹھاؤ۔جہاں تک امین ہونے کا تعلق ہے اس کی طرف ہر مسلمان اور ہر انسان کو متوجہ ہونا چاہیے۔جن لوگوں کی کوششیں دُنیا میں ضائع ہو گئیں کچھ دُنیا میں بھی وہ ناکام ہو گئے اور جو کامیاب ہوئے ان کی کوشش کا نتیجہ تب نکلا کہ جب وہ دُنیوی معیار کے لحاظ سے امین تھے۔اگر وہ امین نہ ہوتے اگر اُن میں رشوت کا ایسا ہی زور ہوتا جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک میں رہا ہے۔(اللہ تعالیٰ فضل کرے اور یہ اندھیرے دُور ہو جائیں ) تو وہ تو میں کبھی ترقی نہ کر سکتیں۔دُنیا قومیں میں ہر جگہ ہمیں خیانت بھی نظر آتی ہے اس لئے کہ دنیا مذہب سے دُور ہو گئی ہے۔خود مذہب میں