خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 67 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 67

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۷ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء تو انہوں نے دوسرے دور کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ نہیں کی۔پس اگر امت محمدیہ نے یا جماعت احمدیہ نے ترقی کرنی ہے تو ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو سبق ہمیں اس چھوٹی سی آیت میں سکھائے گئے ہیں ہم ان کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور اس کے مطابق ہم ہر دور کی قربانیوں کو کمال تک پہنچانے کے بعد نئے دور کی ذمہ داریوں کو نباہنے کے لئے انتہائی جدو جہد اور پوری کوشش کرنی شروع کر دیں۔پھر ہم آگے ہی آگے بڑھتے چلے ئیں گے۔خدا نہ کرے کہ ہم پہلے لوگوں کے انجام سے سبق نہ لیں اور جو اُن پر گذری تھی خدانہ کرے کہ وہی ہم پر بھی گذرے۔خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو۔ایک چھوٹی سی بات جو آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور جس کی طرف میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے لئے ہماری جو عظیم جد و جہد اور عظیم مہم ہے اس کا بھی ایک دور ہے جس میں جانی اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ اتنا عظیم الشان کام ہے کہ بعض کمزور دل اور کمزور ایمان آدمی ڈر جائیں گے۔وہ سمجھیں گے کہ یہ اتنا بڑا کام ہے یہ کیسے سرانجام پائے گا؟ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ میں جتنا کام اس وقت تک ہو چکا ہے وہ بھی کیسے ہو سکنے والا سوال تھا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو قبل اس کے کہ کوئی ایک شخص بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا دوسو علماء نے آپ پر کفر کے فتوے لگا دیئے۔آپ کی محفل میں دو سو علماء کے کفر کے فتوے تو تھے لیکن احمدی کوئی نہیں تھا کیونکہ ابھی آپ نے بیعت لینی شروع نہیں کی تھی لیکن آج دیکھو وہ اکیلی آواز ، وہ خدا اور اس کے رسول کے پیار سے لبریز آواز ساری دنیا میں چکر لگارہی ہے۔پس جو کچھ ہو چکا ہے وہ بھی دراصل ایک معجزہ ہے۔اس لئے جب ہم ایک معجزہ دیکھ چکے ہیں تو ہم آئندہ ظاہر ہونے والے معجزوں سے مایوس کیوں ہوں ؟ خدا تعالیٰ وہ بھی ضرور دکھائے گا البتہ ضرورت اس بات کے سمجھنے کی ہے کہ جب امت محمدیہ نے یا جماعت احمدیہ نے اس سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو نباہا ہے تو پھر ہم اپنی ان ذمہ داریوں کے نباہنے سے کیوں انکار کریں جو آئندہ نئے دور میں ہم پر پڑنے والی ہیں۔