خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 60
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۰ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء اس صیغے میں آیا ہے اس کے معنے ہیں ( جَهَدَ وَ اجْتَهَدَ۔یعنی پورا زور لگا کر کام کو کیا اس لئے اگر ہم اس کے مصدری معنے کو لیں۔تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر ذمہ داری کا جو اگلا دور ہے ایک تو وہ رفعت کا دور ہوگا یعنی ایک بنیاد پہلے بن چکی ہے۔اب اس کے اوپر دوسری منزل بنے گی اور دوسرے یہ بتا یا کہ دوسری منزل پہلی منزل کی مضبوطی کا باعث ہوگی۔اس دنیا کی عمارتیں تو بعض دفعہ دوسری منزل کو برداشت نہیں کرتیں مثلاً کسی عمارت کے متعلق انجینئر سے پوچھیں تو وہ کہہ دیتا ہے کہ اس کی بنیاد میں دومنزلہ عمارت کے لئے نہیں بنائی گئیں۔بعض دفعہ وہ کہہ دیتا ہے کہ چار منزلیں بن سکتی ہیں۔پانچویں منزل نہیں بن سکتی پس اس سے پتہ لگا کہ ہر دوسری منزل پہلی منزل کو مضبوط نہیں کرتی بلکہ اس کی کمزوری کا باعث بن جاتی ہے لیکن روحانی دنیا میں ہر دوسری منزل پہلی منزل کی مضبوطی اور ارتقاء کا سامان پیدا کرتی ہے۔فَانْصَب میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔پس مادی اور روحانی کاموں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ روحانی لحاظ سے جو دوسری منزل بنتی ہے وہ پہلی منزل کی مضبوطی کا بھی سامان پیدا کرتی ہے اور اسی کی انتہا کو ہم انجام بخیر کہتے ہیں۔اس لئے کسی انسان یا فرد واحد کی زندگی جو کہ مختلف ادوار سے گزرتی ہے اگر اس کی آخری منزل کمزور ہو تو نچلی ساری منزلیں کمزور ہوں گی اس لئے یہ سمجھا جائے گا کہ اس کا انجام بخیر نہ ہوا۔غرض اس لحاظ سے بھی مادی اور روحانی تصور میں بالکل نمایاں فرق ہے مثلاً مادی طور پر ایک منزل بنائی جاتی ہے مگر اس پر دوسری منزل نہیں بن سکتی کیونکہ پہلی منزل مضبوط نہیں ہے یا انجینئر کہتا ہے کہ اس کی بنیاد دو منزلوں کو برداشت کر سکتی ہے اور بنتی ایک منزل ہے یعنی ایک منزل کے بوجھ سے زیادہ برداشت کر سکتی ہے۔یہ بھی ممکن ہو گا کہ اس ایک منزل کی شکل میں وہ زیادہ طاقت کی ہوگی لیکن روحانی طور پر دوسری منزل کے بغیر پہلی منزل کمزور رہ جاتی ہے اور تیسری منزل کے بغیر پہلی اور دوسری منزلیں کمزور رہ جاتی ہیں اور آخری منزل کے بغیر تو ساری ویرانی ہے کیونکہ اس طرح انجام بخیر نہیں ہوتا گویا اللہ تعالیٰ کی انتہائی رضا کے پانے کا جب وقت آیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی انتہائی ناراضگی مول لے لی۔