خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 56
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶ خطبه جمعه ۱۸ ؍فروری ۱۹۷۲ء تا ہم جو احمدی ہیں جنہوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روحانی فرزند کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے اور جو اس وجود کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو مہدی معہود تھا جس کی ہدایت کے سامان خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے فضل نے کئے تھے اور جو محبوب تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور پر سلام پہنچایا تھا۔ویسے آپ کی عام دعا ئیں تو ساری اُمت کے لئے ہیں اور ہر زمانے کے لئے ہیں لیکن اس دُعا کے لئے اور سلام کے لئے آپ نے جس کو چنا وہ ایک ہی وجود ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔اس وجود کے ساتھ ہم وابستہ ہیں اور ہم زندہ خدا کی زندہ تجلیاں دیکھتے ہیں اس لئے اگر ہمیں تکلیفیں پہنچتی ہیں تو کیا ہم گھبرا جائیں گے ہم جو حقیقی معنوں میں احمدیت کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کی رو سے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شامل ہو گئے ہیں۔کیا ہم ان تکلیفوں سے ہم ان دشمنیوں سے، ہم اس قتل و غارت سے اور دشمن کے دوسرے خطر ناک منصوبوں سے گھبرا جائیں گے؟ ہم جن کو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دُنیا میں دُور دُور تک نکل جاؤ اور اسلام کو غالب کرو۔کیا ہم اس غلبہ سے پہلے یعنی اس عصر کے وقت سے پہلے ہمتیں چھوڑ بیٹھیں گے؟ نہیں! خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو۔انشاء اللہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ آسمان نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام تمام دُنیا پر غالب ہو۔زمین اس فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔پس ہمیں یہ دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں انتہائی قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ یہ فضل بھی فرمائے کہ ہم میں سے بھاری اکثریت ان انتہائی قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اسی دُنیا میں دیکھنے والی ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۱۱/ مارچ ۱۹۷۲ء صفحه ۱ تا ۵)