خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 48

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء انہی زمینی عناصر میں تبدیلیاں پیدا کر دیں۔وہ عناصر کہ جن کے ذرے ذرے کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ ان کی تسخیر اور ان پر حکمرانی کرے، اُن کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حاکم اعلیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت اور آپ کی کامیابی کے لئے حکم ملا چنانچہ مسلمان جن کے جسم کا ذرہ ذرہ اور رواں رواں متى نصر اللہ پکار رہا تھا وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ تمام عناصر، یہ زمین اور اس کے ذرات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تمہیں آزمایا اور تم اس آزمائش میں کامیاب ہوئے کیونکہ تمہارے اس کرب کو میں نے عظیم بنا دیا ہے اور تمہارا امتحان اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے، تمہارے دکھوں کا انسان تصور نہیں کر سکتا۔میں نے تمہاری یہ آزمائش اس لئے نہیں کی کہ تمہیں دنیا سے مٹا دیا جائے بلکہ یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ ظاہر ہو اور دُنیا خدا تعالیٰ کے اس پیار کا جلوہ دیکھے جو اُسے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کے ساتھ ہے۔اب دیکھیں سارے عرب قبائل اکٹھے ہو کر کمزوروں کو مٹانے کے لئے آگئے تھے۔ان کمزور مسلمانوں نے پیٹ پر پتھر باندھے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی۔وہاں سے بھاگے نہیں۔اُنہوں نے بے عزت صلح کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا۔کمزوری نہیں دکھائی۔شرک کی طرف مائل نہیں ہوئے کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور سہارا ڈھونڈیں۔انہوں نے کہا ہمارا ایک ہی سہارا ہے اگر وہ مل گیا تو اس دُنیا میں بھی کامیاب اور اگر اس دُنیا سے چلے بھی گئے تو ہمیں اُخروی انعامات تو ضرور ملیں گے اور پھر اس حقیقی سہارے نے ان کو بے سہارا نہیں چھوڑا چنا نچہ اس وقت جب کہ دشمن غالب آنے کی اُمید لگائے بیٹھا تھا اور وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ سے زمین و آسمان میں ایک تغیر پیدا ہوا اور وہ جو مسلمانوں کو مٹانے کے لئے آئے تھے بھاگ نکلے۔ریت کے چند ذرے کہہ لو، ہوا کی تھوڑی سی شدت کہہ لو یا اُن کے دلوں کے اندر فرشتوں نے جو بزدلی پیدا کی اور مسلمانوں کا جوڑ عب پیدا کیا وہ کہہ لو۔غرض یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے تھے جو انسان کو نظر آئے لیکن وہ اپنے محاصرے کے پہلے دن ہی نہیں بھاگے، وہ دوسرے اور تیسرے دن بھی نہیں بھاگے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ کئی دن کے بعد رونما ہوا۔