خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 44 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 44

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء طرف سے انتہائی قربانی پیش نہیں کرتے یعنی ایسے وقت کا انتظار نہیں کرتے کہ جب یہ سمجھا جائے کہ وہ مٹ گئے اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت نہ آئی تو اس حالت کے وارد کئے بغیر اللہ تعالیٰ کی مدد کیسے آجائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کہلانے والوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو بد دلی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔اُن کا رشتہ محبت و عشق اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ کمزور ہوتا ہے۔اگر تو خدا تعالیٰ کے پیار کے نتیجہ میں آزمائش کے طور پر دُنیا کی کچھ نعمتیں مل جائیں تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچے تو تکلیف کے ابتدائی دور ہی میں اُن کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں اور وہ پیٹھ دکھا جاتے ہیں اور سارے وعدوں کو بھول جاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دُنیا میں بھی وہی لوگ ترقی کرتے ہیں کہ جودُنیا کی خاطر اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں مگر تم نے بد دلی کا مظاہرہ کیا اس لئے تم دُنیوی لحاظ سے بھی نا کام ہوئے اور تم نے دعوی کیا تھا اُخروی زندگی کی بھلائی کے حصول کا اور اُس کے لئے انتہائی طور پر جد و جہد کرنے کا مگر تم اس میں بھی نا کام ہوئے اور اس طرح تم خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ کے مصداق بن گئے۔تمہیں دنیا اور دین کی ناکامیاں ملیں۔تم دوسروں سے بھی بدتر ہو گئے اس لئے کہ جو غیر ہے وہ اگر دُنیوی انعامات کے حصول کے لئے محنت میں کوتاہی کرتا ہے تو دین کی نعمتیں تو ویسے بھی اُسے نہیں ملتیں۔نہ اُس نے اُخروی زندگی کے لئے کوشش کی ہوتی ہے اور نہ اُس کی کوشش کی نا کامی کا سوال پیدا ہوتا ہے۔اُسے اُخروی انعامات نہیں ملتے کیونکہ اُن کے لئے اُس نے کوشش نہیں کی۔اُس نے خدا تعالیٰ کو پہچانا ہی نہیں۔اُس نے خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت ہی حاصل نہیں کی۔اُس نے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے کا ارادہ ہی نہیں کیا۔اس واسطے اس کی کوشش اور اس کے ارادے کی ناکامی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔گو اس میں شک نہیں کہ ایسا انسان بڑا بدنصیب ہے کیونکہ ایک بہت لمبی اور ایک بہت پیاری زندگی کے انعامات اس کو حاصل نہیں ہوئے لیکن یہ درست ہے کہ ہم کہیں گے کہ کوئی کوشش نہیں تھی جس کی ناکامی کا سوال پیدا ہوتا ہولیکن یہاں ایک وہ شخص ہے جو اگر صحیح طور پر کوشش کرتا اور اُخروی زندگی کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور انتہائی