خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 612 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 612

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۱۲ خطبہ جمعہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۲ء کہ نئے سال کا اعلان باضابطہ بھی کر دیا جاتا ہے پس میں نے اعلان کر دیا میں آپ کو یہ نہیں کہتا کہ آپ بیس ہزار اس سال کی نسبت زیادہ دیں۔میں نے یہ اعلان کیا ہے کہ آپ کی دعا ایاک نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ والی پہلے موقعوں پر جو قبول ہوئی آج بھی آپ کی دعا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ خدا تعالیٰ کے فضل سے قبول ہو گی اور اللہ تعالیٰ آپ کی طاقتوں اور استعدادوں اور قوتوں میں اضافہ کرے گا اور اس اضافے کالازمی نتیجہ ہے کہ وہ آپ کی ساری زندگی سے بڑھ کر ہو گی۔اب نصرت جہاں ریز روفنڈ میں جو ہم نے کام کئے ہر وقت جائزہ تو نہیں لیتے۔کام کر رہے تھے دعائیں کر رہے تھے۔جب نوٹ لئے تو پتہ چلا کہ خدا تعالیٰ کے فضل نے اتنی برکتیں نازل کر دیں۔پس گننا ہمارا کام نہیں یہ بھی یاد رکھیں (اپنی اپنی طبیعت ہے میں اس سے منع نہیں کرتا نہ روکتا ہوں) لیکن میری اپنی طبیعت یہ ہے کہ تسبیح کے دانوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور خیال آتا ہے کہ کیا میں گن کے دوں گا اور خدا سے یہ کہوں گا کہ تو مجھے محدود اور گن کے دے؟ پس ہماری کوشش محدود ہے لیکن ہم اپنی یاد میں اس کو غیر محدود بنا دیتے ہیں۔اگر تسبیح کے دانوں کو گنیں گے تو وہ محدود ہوں گے اور آپ کے حافظہ میں بھی وہ محدود تعداد ہو گی۔آپ نے کہا سو دفعہ ہم نے پڑھا لیکن ایک شخص کہتا ہے میں گن کر نہیں دوں گا میں تو اپنے عاجزانہ مقام سے بغیر گنے کے تجھے دوں گا اور میرا حافظہ کہے گا کہ وہ غیر محدود اور غیر معین ہے مثلاً میں ستر دفعہ سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیم کہوں یا سات سو دفعہ کہوں یا سات ہزار دفعہ گن کر کہوں مجھے پتہ نہیں ہونا چاہیے یعنی اپنی طبیعت بتا رہا ہوں کیونکہ میری خواہش یہ ہے کہ میں خدا سے گفتی کر کے کوئی سودا نہ کروں بلکہ حافظے کے لحاظ سے (انسان کی ہر کوشش محدود ہے لیکن اس کا حافظہ بھی محدود ہے ) میں غیر محدود اس کے حضور پیش کروں اور اس سے کہوں کہ تو اپنے فضل کے لحاظ سے اور اپنے مقام الوہیت کے لحاظ سے اور اللہ کے مقام کے لحاظ سے مجھے غیر محدود دے۔پس ہم گنا نہیں کرتے۔میں تو بالکل نہیں گنتا اور بغیر گننے کے جماعت آگے بڑھ رہی ہے جیسے کہ نوٹ تیار ہوتے ہیں مختلف مواقع پر کچھ کہنا ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی کچھ نعمتیں شمار ہو جاتی ہیں اور ایک حد تک ہمارے سامنے آجاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کے