خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 589 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 589

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۹ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء فائدہ نہ اٹھایا تو میرے مخلص بھائی ربوہ کی فضا کو پاک رکھنے اور معاشرہ کو حسین رکھنے کے لئے اپنی ذمہ داری نبھا ئیں گے۔اس سلسلہ میں آپ دوستوں کو بنیادی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ حکومت سے تعاون کرو اور آج حکومت نے یہ اعلان کیا کہ سڑکوں پر نکل آؤ اور ملک کی دولت اور جائیدادوں اور اہل پاکستان کی عزتوں اور جانوں کی حفاظت کرو اور اگر ہم نے حکومت سے تعاون کرنا ہے اور ضرور کرنا چاہیے۔تو ربوہ میں بھی ہم کسی ناخوشگوار اور مفسدانہ فعل کو برداشت نہیں کریں گے جن کی نیتیں خراب ہیں وہ بھی سن لیں اور جنہوں نے ذمہ داری نباہنی ہے وہ بھی سن لیں کہ ہم اپنے شہر کو ایک نمونہ بنانا چاہتے ہیں۔قابلِ رشک نمونہ۔اس لئے رشک کرو ہم پر اور اپنے شہروں کو بھی اسی طرح امن کے جزیرے بناؤ۔کون تمہیں اس سے روکتا ہے لیکن جو بھڑکتی ہوئی آگ دشمنی کی ، حسد کی ، بد دیانتی کی اور لا پرواہی کی اور ایک دوسرے کولوٹنے کی اور استحصال کرنے کی تم میں سے بعض نے اپنے شہروں میں بھڑکائی ہوئی ہے ہمارے شہر میں اس کے بھڑ کانے کی کوشش نہ کرو۔اس میں خدا کے فضل سے تم کامیاب نہیں ہو گے ہم عوام ( جو ہمارے مخالف ہیں ان کو مخاطب کر کے میں کہتا ہوں) تمہاری خیر خواہی اور ہمدردی کی خاطر ”عوامی“ بنے ہیں۔( كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) تمہیں دکھ پہنچانے یا تم سے کچھ چھینے یا تمہارا استحصال کرنے کے لئے ہم عوامی نہیں بنے یہ عوام کی الناس کی حکومت للناس ہے اور ہم عوامی ہیں۔جب ہم عوامی حکومت کا ہی ایک حصہ ہیں تو تمہیں خوف کس بات کا! ہم تو دکھ پہنچاتے ہی نہیں۔ہمیں تو یہ حکم ہے گالیاں سن کر دعاد وہ ہمیں تو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ پاکے دکھ آرام دو ہمیں تو یہ کہا گیا ہے کہ تم خود اس لئے تکالیف برداشت کرو کہ تمہارا بھائی تکالیف اور مشقتوں سے بچ جائے۔ہم استحصال کرنے کے لئے نہیں استحصال دور کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔پھر تم کیوں گھبراتے ہو اور شیطانی وساوس کا شکار کیوں بن جاتے ہو۔لیکن یہ تو نہیں ہوگا انشاء اللہ کہ گندی زیست کی جو آگ، بددیانتی کی جو آگ، ایک دوسرے پر ظلم اور حسد کی آگ اور ایک دوسرے کو نیچے گرانے اور پامال کرنے کی جو آگ دوسری جگہوں میں ہے۔جس کو بجھانے کے