خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 584 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 584

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۴ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ربوہ میں بھی اس فتنے کی کچھ آنچ آئی اور ہمارے کا لج میں بعض لڑکوں نے نعرے لگائے۔وہ تو ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا۔پھر ایک اور چھوٹا سا واقعہ بھی ہوا۔ملک میں آگ لگی ہو تو ہم تک گرمی تو پہنچے گی اور وہ ہم تک پہنچی لیکن میرے لئے جو بات بڑے دکھ کا باعث بنی وہ یہ کہ ہمارے بعض احمدی خاندان بھی روپے کے لالچ میں اس آگ میں ملوث ہو گئے۔یہ کام میرا اکیلے کا نہیں بلکہ اہل ربوہ کا اجتماعی کام ہے کہ ہمارے اندر اس قسم کی کمزوریاں دکھانے والا کوئی شخص نہ ہو اور نہ رہے آپ کے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل باہر کی جماعتوں سے زیادہ ہیں مثلاً ربوہ کا مکین جو چند روپے بھی خرچ کر سکتا ہے وہ اپنے کالج میں اپنے بچوں کو پڑھانے لگتا ہے مگر جو احمدی بچہ سیالکوٹ سے آئے گا اور اس کے والدین کا شوق ہو گا کہ مرکز میں ان کا بچہ پڑھے اس کو آپ کے مقابلہ میں دس پندرہ گنا زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔پھر اللہ تعالیٰ کا آپ پر یہ فضل ہے کہ جو مواقع آپ کو ربوہ میں نیکی کی باتوں کے سننے کے ہر وقت ملتے ہیں وہ مواقع باہر رہنے والے احمدیوں کو میسر نہیں آتے۔آپ خلیفہ وقت سے قریباً ہر جمعہ کا خطبہ سنتے ہیں۔ملاقاتیں کرتے ہیں۔آپ میں سے جو بھائی ضرورت مند ہوں ان تک خلیفہ وقت کی نگاہ بڑی جلدی پہنچ جاتی ہے۔باہر سے اگر کوئی واقعی ایسا مطالبہ ہو جو ہر طرح جائز ہو اور پورا کرنا ہواس کے لئے بھی ہمیں باہر سے رپورٹ منگوانی پڑتی ہے۔حالات کا جائزہ لئے بغیر تو ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔اس لئے ہم نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ احمدی ہو یا نہ ہو جب بھی اس قسم کا کوئی مطالبہ آئے ہم اسے امیر کے پاس بھیج دیتے ہیں اور پھر کافی دیر لگ جاتی ہے۔یہاں کی ضرورت اگر ایسی ہے کہ ایک گھنٹے میں پوری ہونی چاہیے تو ایک گھنٹہ ہی میں پوری ہو جاتی ہے۔لیکن باہر والوں کا تو یہ معاملہ نہیں ہے۔آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے پھر یہاں کالج ہے سکول ہے۔ہمارا کالج ۱۹۴۴ء میں بنا تھا۔میں ہی زیادہ دیر اس کا پرنسپل رہا ہوں۔مجھے خیال آیا اور میں نے سوچا میرا اندازہ ہے کہ جماعت احمدیہ نے اپنے مرکزی تعلیمی اداروں پر اس وقت تک ایک کروڑ روپیہ سے زائد رقم خرچ کی ہے اور اس کا فائدہ زیادہ تر آپ مرکز میں رہنے والے اٹھاتے ہیں یہ تو آپ پر خدا کا فضل