خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 576
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۶ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ حکمت نے اس کی بھی تقسیم یوں کی ہے کہ اس دعا کا ایک تھوڑا سا حصہ اس میں وہ وفات پانے والے کے لئے اور باقی زندہ رہنے والوں کے لئے ہے پس اس پر بھی جب غور کریں تو دو باتوں کا پتہ لگتا ہے۔ایک یہ کہ جانے والے کے لئے ضرور دعا کرنی چاہیے تا کہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی زیادتی ہوتی رہے۔دوسرے یہ کہ جو زندہ ہیں ان کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے کیونکہ نماز جنازہ میں بھی دعاؤں کا زیادہ وقت ان کے لئے ہے یعنی اس دعا کے لئے نماز کا تیسرا حصہ ان کے لئے تھا اور اس میں سے بھی ایک حصہ وفات پانے والوں کے لئے اور باقی زندہ رہنے والوں کے لئے ہے تو اللہ تعالیٰ وفات پانے والوں پر بھی رحمتیں نازل فرمائے اور زندہ رہنے والوں کے لئے بھی بہت زیادہ رحمتیں نازل کرے کیونکہ ابھی انجام کا کچھ پتہ نہیں۔خود انسان کو کوئی پتہ نہیں اور نہ کسی اور کو پتہ ہے۔پس جو شخص وفات پا گیا خدا کرے کہ اس کا انجام نیک ہو اور وہ خدا کی رحمتوں میں داخل ہونے والا ہو اور جو زندہ رہ گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر بھی فضل فرمائے اور ان سے کبھی ایسی غلطی سرزد نہ ہو جس کے نتیجہ میں وہ اس کی نظر پیار اور نظر رضا سے محروم ہو جائیں پس نماز جمعہ کے بعد میں انشاء اللہ ڈاکٹر مولا نا محمد یعقوب خاں صاحب کا جنازہ پڑھاؤں گا آپ سب اس میں شامل ہوں۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۹؍ دسمبر ۱۹۷۲ ء صفحه ۵ تا ۸)