خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 39
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹ خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۷۲ء کی محبت کو اپنی اہلیت کے مطابق انتہائی طور پر پالو تا کہ اس دُنیا کے انعامات بھی ملیں اور اُس دُنیا کے انعامات بھی ملیں۔پس یہی محنت ہے ، یہی جد و جہد ہے، یہی جہاد ہے ، یہی کوشش ہے اور یہی جفاکشی ہے جس کی طرف اسلام ہمیں بلاتا ہے اور جس پر قرآن کریم نے مختلف پہلوؤں سے مختلف رنگوں میں بار بار زور دیا ہے اور اس کی تاکید فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ عمل میں احسان کو مدنظر رکھیں۔اس عمل کی خوبصورتی کو انتہا تک پہنچانے کے لئے جس حُسنِ علم کی ضرورت ہے ہم اُس کو بھی حاصل کر سکیں عربی لغت میں آحسَنَ فِی الْعَمَلِ “ کے یہ معنے کئے گئے ہیں کہ وہی شخص اچھا ہے جس کے کام میں حسن علم بھی ہے اور حسنِ عمل بھی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حسن علم کے بغیر حسن عمل ہو ہی نہیں سکتا۔جب ہمیں یہ پتہ ہی نہ ہو کہ اپنے عمل کو یا اپنی کوشش کو یا اپنی قربانیوں کو کس طرح ، کس رنگ میں اور کن جہات سے ہم خوبصورت سے خوبصورت بنا سکتے ہیں تو ہمارا عمل ادھورا رہ جائے گا کیونکہ ہمیں اپنے عمل کو خوبصورت بنانے کا علم نہیں ہے۔اس واسطے جن راہوں پر چل کر انتہائی کوشش کرنی چاہیے اُن راہوں کا علم بھی ہونا چاہیے اور اُن پر چلنا بھی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِانْفُسِكُم - (بنی اسراءیل : ۸) یعنی اگر تم اچھا کام کرو گے تو اس کا بہترین نتیجہ تمہیں مل جائے گا۔اس میں ”اِحْسَان في الْعَمَلِ “ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر تم اپنے کاموں میں حُسنِ علم اور حسن عمل پیدا کرو گے تو تم اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حسین ترین جلوہ دیکھو گے۔تم اپنے جسمانی اور روحانی حواس سے اُس کے حُسن کو اس کے پیار کو اور اس کی محبت کو محسوس کرو گے اور اس سے زیادہ نہ کچھ اور ہوسکتا ہے اور نہ عقلاً ممکن ہے۔پس اگر تم اللہ تعالیٰ کے انتہائی پیار اس کے انتہائی انعام اور اس کی انتہائی رحمتوں اور اس کے انتہائی فضلوں کے وارث بننے کے اہل ہو گے تو تمہیں یہ سب کچھ ملے گا لیکن ایک مسلم کی محنت