خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 38 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 38

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۸ خطبہ جمعہ ۴ فروری ۱۹۷۲ء سمجھنے والے اس گروہ کو جب خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ بشارت ملی تو پھر ان کے لئے کوئی شبہ اور ابہام باقی نہ رہا۔پس اس دنیا میں بھی روحانی لذتوں اور سرور کے ہزار ہا سامان پیدا کر دیئے گئے ہیں۔میں تو اس وقت مثال دے کر بعض باتیں بیان کر رہا ہوں ورنہ روحانی نعمتوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہو سکتا۔اس اگلی زندگی کے جو ٹھنڈے جھونکے ہیں وہ تو یہاں مل جاتے ہیں اور بے شمار ملتے ہیں لیکن بہر حال ایک مسلمان کی زندگی جو اللہ تعالیٰ کے انعامات سے بھری ہوئی ہے اور جو اخلاقی روحانی لذتوں اور سرور کی آماجگاہ ہے۔اس زندگی کا تعلق اس لذت کا تعلق اور اللہ تعالیٰ کے اس پیار کا تعلق اس دنیا کی زندگی کے ساتھ بھی ہے لیکن اس اگلی زندگی کے ساتھ حقیقی اور شدید تعلق ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جنتیں دو ہیں۔ایک اس دنیا کی جنت اور ایک اس اُخروی دنیا کی جنت جو شخص اللہ تعالیٰ کے پیار کو پالیتا ہے۔اسے اس دنیا میں بھی جنت مل جاتی ہے۔ان ساری باتوں سے ایک یہ نتیجہ بھی بڑا واضح اور نمایاں طور پر نکلتا ہے کہ ایک احمدی بچے ، بوڑھے اور جوان مرد و زن کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کی نشوونما کو انتہا تک پہنچانے کے لئے انتہائی محنت اور جفاکشی کی زندگی گزارے۔اس کے بغیر زندگی کا کوئی مزہ نہیں۔اس کے بغیر زندگی کی کوئی لذت نہیں اور اس کے بغیر زندگی کا کوئی سرور نہیں۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اگر ہمارا رب مثلاً کسی سے یہ کہے کہ میں تجھے اپنا سو پیار دینا چاہتا ہوں اور وہ کہے کہ اے ہمارے پیدا کرنے والے پیارے محبوب خدا ! میں تو تیرے صرف ہیں پیارلوں گا اور باقی کو چھوڑ دوں گا تو اس میں زندگی کا کیا مزہ ہے۔پس اللہ تعالی تمہیں جتنا پیار دینا چاہتا ہے وہ تم حاصل کرو مگر اس کا انحصار تمہاری صلاحیتوں اور قوتوں کے پیمانے پر ہے۔اس لئے تم اپنے اس پیمانے کو آدھا نہ بھرو اور نہ اس میں کوئی سوراخ ہونے دو کہ کہیں وہ چیز بھی بیچ میں سے بہہ نہ جائے جو تم نے حاصل کی ہے۔غرض جس حد تک تم خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے اہل اور قابل بنائے گئے ہو تم انتہائی کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ