خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 542
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۲ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء میں نے آپ کو ایک تحریک کی تھی کہ پانی ابال کر پیا کریں۔اگر اس طرح پانی بدمزہ لگے تو سبز چائے کی پتی بیچ میں ڈال دینی چاہیے۔دوست اس پر ضرور عمل کریں۔معدہ اور انتڑیوں کے لئے ابلا ہوا پانی بہت مفید ہے۔میں مختصراً ایک اور بات بھی کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجلسِ صحت کا کام کچھ ست پڑ گیا ہے گرمیوں میں تو ست ہونا ہی تھا کیونکہ اکثر طلباء موسم گرما میں ربوہ سے باہر چلے جاتے ہیں۔پچھلا وقت تو گزر گیا اب اس کام میں چستی پیدا ہونی چاہیے۔مجلس صحت کا ایک کام ربوہ میں شجر کاری بھی ہے۔فروری میں درخت لگانے کا موسم آئے گا اگر اس وقت تک ہم اسی طرح بیٹھے رہے کہ وقت پر کام کریں گے تو پھر جس طرح ہم پہلے درخت نہیں لگا سکے اسی طرح اب بھی نہیں لگا سکیں گے اس واسطے یہ کام ابھی سے شروع کر دینا چاہیے۔اس سلسلہ میں ہمیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ کہاں کہاں درخت لگ سکتے ہیں وہاں درخت لگانے کا انتظام ہونا چاہیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم ربوہ میں پندرہ میں ہزار درخت لگا سکتے ہیں جس سے شہر کی شکل بدل سکتی ہے۔پھر درختوں کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے۔درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری میں اس طبقے پر ڈالتا ہوں جس سے درختوں کو سب سے زیادہ خطرہ رہتا ہے اور اس سے میری مراد بچے ہیں۔اطفال الاحمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ چھوٹے درختوں کی حفاظت کریں اور اپنے ان بھائیوں کا بھی خیال رکھیں جو ابھی چھوٹے ہیں اور اطفال الاحمدیہ کی عمر کو نہیں پہنچے۔ایسے چھوٹے بچے بھی درخت نہ توڑیں۔دراصل ( درخت کے لئے دو حالتیں خطرناک ہوتی ہیں۔ایک جب وہ بالکل چھوٹا ہوتا ہے۔اس حالت میں بچے بھی اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔دوسری وہ حالت ہے جب درخت بڑا ہو جاتا ہے اس کی ہری بھری ٹہنیاں نکل آتی ہیں اس وقت بعض بیوقوف حریص اور دنیا دار آدمی دو چار آنے کے فائدہ کے لئے اس کی ٹہنیوں کو کاٹ دیتے ہیں۔ان ہر دو حالتوں میں درختوں کی حفاظت از بس ضروری ہے۔جب کبھی ایسا آدمی درخت کاٹ رہا ہو دوسرے آدمی کو اس کے پاس سے نوٹس لئے بغیر گزر نہیں جانا چاہیے بلکہ اسے ٹوکنا چاہیے اور اس سے یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ کس کے حکم سے درخت کاٹ رہا ہے بعض دفعہ خود میں نے دیکھا ہے جب پوچھا کہ کیوں درخت کاٹ