خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 541 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 541

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۱ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء تحریک کرنا چاہتا ہوں اور الفضل کو چاہیے کہ وہ کل ضرور شائع کر دے کہ ہمارے احمدی ڈاکٹروں میں سے ایک یا دو ڈاکٹر ایک مہینے کی چھٹی لے کر یہاں آجائیں تا کہ ربوہ میں جو دوست بیمار ہیں ہم ان کا اپنی تسلی کے مطابق علاج یعنی تدبیر والا حصہ پورا کر سکیں۔جو دعا والا حصہ ہے اس کے لئے تو کسی اندرونی یا بیرونی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے۔میں اور آپ سب دعا کریں گے لیکن جو تد بیر والا حصہ ہے اس میں بھی ہم نے پوری کوشش کرنی ہے اس وقت کما حقہ تد بیر نہیں ہو رہی کیونکہ ڈاکٹروں کی کمی ہے۔اگر ہمارے ایک یا دو فزیشن ڈاکٹر ایک مہینے کی چھٹی لے کر یہاں آجا ئیں تو مجھے امید ہے کہ ہم بیماری پر بڑی حد تک قابو پالیں گے۔ہمارے ایک اپنے ڈاکٹر مزید تجربہ حاصل کرنے کے لئے باہر گئے ہوئے ہیں وہ واپس آنے والے ہیں شاید آٹھ یا دس دسمبر کو انشاء اللہ یہاں پہنچ جائیں گے۔ڈاکٹر لطیف صاحب بھی اچھے خاصے کامیاب ڈاکٹر تھے اور میرا خیال ہے کہ دعائیں کرنے والے بھی تھے کیونکہ ان کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے شفا بھی رکھی تھی۔وہ اپنی بعض مجبوریوں کے وجہ سے چھٹی لے کر باہر گئے تھے۔انہوں نے اس سال اگست، ستمبر میں واپس آنا تھا مگر وہ اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ سے نہیں آسکے تاہم میں نے ان کو لکھا ہے کہ وہ اپنی مجبوریوں کو چھوڑیں اور بہت جلد واپس آجائیں لیکن اس وقت چونکہ ہمیں فوری طور پر فزیشن ڈاکٹروں کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت بہر حال پوری ہونی چاہیے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ہمارے احمدی ڈاکٹر صاحبان جو پاکستان میں مختلف جگہوں پر کام کر رہے ہیں۔ان میں ایک یا دو ڈاکٹر ایک ایک مہینے کی رخصت لے کر ربوہ آجائیں تا کہ میری اور آپ کی فکر دور ہو سر دست جو ڈاکٹر یہاں موجود ہیں یعنی تینوں قسم کے اور ان سب کو میں اطباء یعنی ڈاکٹر کہتا ہوں اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ نے ڈاکٹر کہا تھا اور میں تو ہومیو پیتھ ہوں یا طبیب ہوں اس لئے میٹنگ میں شامل نہیں ہوا۔میری مراد اس وقت وہ سب دوست ہیں جو یہاں طب کا کام کرتے ہیں یعنی جو پیشہ ور طبیب ہیں خواہ وہ ہو میو پیتھک کے ڈاکٹر ہوں یا ایلو پیتھک کے یاطب یونانی یا مسلم طب کے حکیم اور طبیب ہوں۔وہ سب کل عصر کی نماز کے بعد میٹنگ میں شامل ہوں تا کہ ہم مشورہ کریں اور پھر سارے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی مناسب عملی اقدام کریں۔