خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 538
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۸ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء عادت پڑ گئی اسی لئے جو سمجھدار ڈاکٹر ہے وہ اپنے مریض کو تنبیہ کر دیتا ہے کیونکہ بعض ایسی طبائع ہوتی ہیں کہ ان کو ایک ٹیکے یا ایک خوراک سے افیون کھانے کی عادت پڑ جاتی ہے۔غرض جو نقصان طب یونانی کی شکل میں افیون دینے سے نہیں ہوا تھا وہ ایلو پیتھی کی شکل میں دینے سے پیدا ہو گیا۔بایں ہمہ ایلو پیتھی والوں کا یہ کہنا کہ طب یونانی ہمارے کام کی نہیں ہے یہ تو پرانا اور دقیا نوسی طریق علاج ہے۔یہ طلب ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔یہ کہنا غلط ہے۔لیکن انسان جب کسی مسئلہ میں مجبور ہو جاتا ہے تو پھر نئی راہیں تلاش کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے۔اس توجہ کی مثال ہمیں چین میں نظر آتی ہے۔چین بھی چونکہ ایک نیا اور ترقی کرنے والا ملک ہے۔اس نے بھی شروع میں ایلو پیتھی طریق علاج اختیار کیا لیکن چند سال ہوئے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہم ستر اسی کروڑ آبادی کا علاج ایلو پیتھی کے ذریعہ نہیں کر سکتے۔ایک تو لوگ اتنی کثرت سے بیمار ہوتے ہیں دوسرے اس پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔دواؤں کا مہیا کرنا اور مریض کے علاج کا خرچ اٹھا نا حکومت کے ذمہ ہے۔پھر بعض ایسی بیماریاں ہیں جن کے لئے کوئی دوا نہیں ہے۔چنانچہ جب انہوں نے اس مسئلہ پر غور کیا تو انہیں یہ احساس ہوا کہ یہ سمجھنا غلطی ہے کہ پرانی طب بے فائدہ ہے۔اس کو بالکل چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔بالآخر انہوں نے ایک جامع پروگرام کے ماتحت کئی لاکھ ڈاکٹر اور میڈیکل کالجوں کے طلباء کو سارے چین میں پھیلا دیا اور کہا کہ جتنے بھی بڑے بوڑھے حکیم لوگ ہیں ان سے مل کر علاج کے پرانے ٹوٹکے در یافت کرو۔ویسے ہر جگہ کوئی نہ کوئی آدمی حکیم ضرور ہوتا ہے۔جس کو کچھ آتا ہے وہ بھی حکیم ہے اور جس کو کچھ نہیں آتا وہ بھی حکیم ہے اس قسم کے کسی حکیم کا نسخہ بھی فائدہ دیتا ہے اور کبھی نقصان بھی دیتا ہے۔بہر حال چینی ڈاکٹروں اور طالب علموں کی ٹیمیں گاؤں گاؤں میں گئیں اور ستر ستر اسی اسی سال کے بوڑھے لوگوں سے دریافت کیا کہ وہ کون سی بیماری کا کس دوائی یا جڑی بوٹی سے علاج کرتے تھے۔چنانچہ انہوں نے بوڑھے لوگوں اور پرانے حکیموں کی باتوں ، ان کے تجربات اور آزمودہ جڑی بوٹیوں کے متعلق معلومات کو بڑی سنجیدگی سے نوٹ کیا اور پھر ایک جگہ اکٹھا کر کے ان پر غور کیا گیا اور پھر ان فراہم شدہ معلومات کی روشنی میں دوائیاں تیار کر کے ان پر تجربات کئے گئے