خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 539
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۹ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء اور اس طرح وہ ایسی دوائیں بنانے میں کامیاب ہو گئے جو ایلو پیتھی والے نہیں بنا سکے مثلاً اگر معدہ کا کینسر ہوتو ایلو پیتھی ڈاکٹر معدہ کا بیمار حصہ کاٹ دیتے ہیں اور جو صحت مند حصہ ہوتا ہے اس کو سی دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے معدہ میں اور انتڑیوں میں ایک حرکت پیدا کی ہے جس کے نتیجہ میں ایک تو کھانا آگے جاتا ہے اور ہضم ہوتا ہے کھانا ہضم کرنے کے لئے انتڑیوں اور معدہ میں چھوٹے چھوٹے گلینڈ ز ہوتے ہیں جن میں سے سکویشن نکلتی ہے اس کے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوسکتا۔پس ایک تو یہ حرکت ہے۔دوسرے خون کا دوران ہوتا ہے جو صحت کے لئے ضروری ہے۔اس قسم کے آپریشن سے نظام ہضم کو بہت بڑا صدمہ پہنچتا ہے۔وہ کام نہیں کرتا۔معدہ اور انتڑیوں میں حرکت نہیں رہتی مگر ایلو پیتھی والے جب آپریشن کرتے ہیں تو کئی دن کھانے کو نہیں دیتے کہتے ہیں کہ جو کھانا کھاؤ گے وہ اندر جا کرسٹر جائے گا۔معدہ میں چونکہ کوئی حرکت نہیں اس لئے معدہ میں پڑا رہے گا انتڑیوں میں چلا گیا تو وہاں پڑے گا اور عفونت پیدا ہو جائے گی جس سے زہر پیدا ہو جائے گا۔اس لئے ڈاکٹر ایسے مریض کو کئی دن تک کھانے کو کچھ نہیں دیتے۔ایک تو آپریشن کر کے کمزور کر دیتے ہیں دوسرے کھانے کو کچھ نہیں دیتے اس سے مریض اور بھی زیادہ کمزور ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مریض کئی کئی مہینوں بلکہ بعض دفعہ سالوں تک اپنی نارمل صحت حاصل نہیں کر پاتا لیکن حکومت چین نے جو معلوماتی ٹیم دیہاتوں میں بھجوائی تھی ان کے ذریعہ پرانے حکیموں سے باتیں کر کے یہ پتہ لگا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں جن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ انتڑیوں اور معدہ کی حرکت کو معمول پر لے آتی ہیں۔چنانچہ پچھلے دنوں میں نے ایک چینی رسالے میں ایک مضمون پڑھا تھا کہ چینی ڈاکٹروں نے ایک بہت ہی زیادہ بیمار آدمی کا آپریشن کیا۔پیٹ کھولنے پر معدہ بہت زیادہ خراب نکلا ایک مٹھی بھر صحت مند معده ره گیا تھا۔اس کو تو انہوں نے سی دیا اور جو بیمار حصہ تھا اسے کاٹ دیا اور قبل اس کے کہ وہ معدہ کے ساتھ انتڑی کو ملاتے انہوں نے ایک پلاسٹک کی ٹیوب انتڑی کے منہ پر رکھدی اور وہی نسخہ جو بڑے بوڑھے حکیموں سے حاصل کیا تھا جو دین ' جڑی بوٹیوں کے مرکب پر مشتمل تھا۔ٹیوب کے ساتھ ایک خوراک اندر داخل کر دی تو چونکہ پیٹ کھلا ہوا تھا انہوں نے دیکھا کہ اسی وقت انتڑیوں