خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 537 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 537

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۷ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۷۲ء نہیں کرو گے۔چنانچہ ایک ہفتہ کے بعد ان کا خط آ گیا کہ میں نے آپ کا حکم مان لیا تھا اور دوائی چھوڑ دی تھی اس سے مجھے آرام آ گیا ہے۔پس اس قسم کی جتنی بھی اینٹی بائیوٹک ادویہ ہیں ان کے استعمال میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمارے ایلو پیتھی کے اطباء کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو سوائے اس کے کہ کوئی اور چارہ نہ رہے اس قسم کی مہلک ادویہ استعمال نہ کرائیں اور نہ ہمارے مریضوں کو ان دواؤں کے استعمال پر اصرار کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے اس لئے ہمیں عقل سے کام لینا چاہیے۔دوسری پرانی طب ہے اسے آئیور ویدک ، طب یونانی کہتے ہیں یا اسے اسلامی طب کہنا چاہیے کیونکہ ہمارے مسلمان اطباء نے اس پر بڑا کام کیا ہے لیکن میں نے کسی کو مسلم طب کہتے نہیں سنا۔حالانکہ یہ دراصل مسلم طب ہے کیونکہ مسلمان اطباء نے اس کی ترقی و ترویج میں بڑا کام کیا ہے۔ایک وقت تک اس طب نے بڑا اچھا کام کیا اور دنیا کو اس کے ذریعہ بڑا فائدہ پہنچایا۔مگر بعد کے زمانہ میں فکر میں بھی ، مشاہدہ میں بھی اور عملی تجربات میں بھی تنزل رونما ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے باہر سے جو مختلف قسم کے دوسرے خیالات تھے وہ لئے اور کچھ انہوں نے اس طب یونانی سے اخذ کئے اور علم طب میں ترقی کر گئے انہوں نے ان کا زیادہ صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا اس سے اس وقت بحث نہیں تاہم میں یہ مثال دیا کرتا ہوں کہ طب یونانی کے جو مرکبات اور نسخے ہیں میرا خیال ہے کہ پچاس فیصد سے زاید نسخوں میں افیون پڑتی ہے لیکن میرے علم میں ایسا کوئی شخص نہیں حالانکہ میں نے لوگوں سے پوچھا بھی ہے اور خود غور بھی کیا ہے لیکن مجھے کوئی آدمی ایسا نہیں ملا جس نے طب یونانی یا مسلم طب کا ایک ایسا نسخہ استعمال کیا ہو جس میں افیون پڑتی ہو اور اسے افیون کھانے کی عادت پڑ گئی ہو۔میرے علم میں ایسا کوئی مریض نہیں ہے لیکن یہ بات میرے علم میں ہے کہ جب ایلو پیتھی میں افیون کے مختلف ست (اجزاء ) نکالے گئے اور میرے خیال میں اس وقت تک ۲۳، ۱۲۴ جزاء بنائے جاچکے ہیں بلکہ اب تو کسی نے مجھے بتایا ہے کہ ان کی تعداد ۳۵، ۴۰ تک جا پہنچی ہے۔بہر حال جب ان کو علیحدہ علیحدہ استعمال کیا گیا تو میرے علم میں ہے اور ڈاکٹروں کے علم میں بھی ہے کہ اکثر مریضوں کو افیون کھانے کی