خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 522

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۲۲ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء کھانا دینے پر اکتفا کرنا پڑے تب بھی دوست اسے بطیب خاطر قبول کر لیتے ہیں۔اگر چہ روٹیاں پکانے والی مشینیں تو مل گئی ہیں لیکن پیڑے اور روٹیاں بنانے کی مشینیں ابھی تک ہمیں نہیں مل سکیں۔اس سال ایک مشین ہمیں ملی ہے جو پیڑے بنانے یا روٹیاں بنانے والی ہے۔یہ مشین ربوہ میں پہنچ چکی ہے اور اس وقت اس پر تجربہ ہو رہا ہے یہ مشین کراچی سے بن کر آئی ہے مگر ٹھیک طرح کام نہیں کر رہی ہمارے ایک احمدی انجینئر دوست ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر اور سمجھ اور فراست عطا فرمائے وہ اس کو ٹھیک کر رہے ہیں۔اس میں کافی حد تک درستی ہوگئی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور اس کا تجربہ کامیاب ہو جائے تو پھر اگلے سال ہمارے لئے بہت سہولت پیدا ہو جائے گی لیکن سر دست میں یہ کہوں گا کہ ہمارے جلسہ میں نانبائیوں کی کمی کسی صورت میں رخنہ انداز نہیں ہونی چاہیے جلسہ کے ایام میں بوقت ضرورت ہمارے مرد و زن ہر دو کو پیٹڑے اور روٹیاں بنانے کیلئے تیار رہنا چاہیے یہ اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی عظیم مقصد کے حصول میں جو جد و جہد کرنی پڑتی ہے اس میں مردوزن کی تفریق نہیں کی جاسکتی ہر دو پر ایک جیسی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔بعض دفعہ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔جن میں ہمیں یہ اصول یاد کرایا جاتا ہے کہ دیکھو اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ایک عظیم جد و جہد شروع ہے۔اس زمانے سے مراد ایک احمدی ہمیشہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ لیتا ہے کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آپ کی بعثت سے قیامت تک ممتد ہے۔اس لئے ہمارا یہ زمانہ بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے۔پس اس زمانہ میں توحید کے قیام بنی نوع انسان کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کا پیارا اور قرآن کریم سے دلی وابستگی پیدا کرنے کے لئے جو عظیم جدوجہد ایک مجاہدہ اور ایک جہاد شروع ہوا ہے۔اس نے مردوزن کی تفریق مٹا دی ہے۔دونوں پر ایک جیسی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان دونوں کے کاموں میں فرق ہو سکتا ہے لیکن ان کی ذمہ داریاں ایک جیسی ہیں۔ہم عورتوں کو پرے نہیں بٹھا سکتے بلکہ جب ضرورت پڑتی ہے تو ہم دینی امور میں ان سے استثنائی خدمت لیتے ہیں۔شروع اسلام میں جب عورتوں کی ضرورت پڑی تھی تو وہ میدانِ جنگ میں چلی گئیں۔جب ان کی ضرورت نہیں تھی تو وہ