خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 519
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۱۹ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء جہاں تک مہمان ہونے کا تعلق ہے میں بھی اور آپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں مگر خادم ہونے کی حیثیت میں ہم سارے میزبان ہیں۔غرض مہمان اور میزبان دونوں اکٹھے ہو جاتے اور جلسہ کے انتظامات میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی برکت اور رحمت ہے۔ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔جلسہ کے دنوں میں رہائش کے سلسلے میں میں نے دیکھا ہے کہ باہر سے جو دوست اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آتے ہیں۔وہ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ انہیں کوئی غسل خانہ دے دیا جائے ، وہ اسی میں اپنا وقت گزار لیں گے۔پس مکانوں کی مانگ کا تو یہ حال ہے اور اُدھر ربوہ کے دوست تھوڑی تعداد میں بیٹھنے والے یا دوسرے کمرے فارغ کرتے ہیں۔ان میں سے بھی بعض دوست عملاً فارغ نہیں کرتے جس سے انتظامیہ کو بڑا غصہ آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دے سکتے نہیں کیونکہ مثلاً ان کے دور کے عزیز یا کوئی دوست ہیں وہ انہیں اطلاع دے دیتے ہیں کہ وہ جلسہ پر نہیں آرہے۔چونکہ انہوں نے پہلے سے یہ ذہن میں رکھا ہوتا ہے کہ میں فلاں کمرہ ان کو دونگا لیکن جب ان کی طرف سے اطلاع آجاتی ہے کہ وہ جلسہ پر نہیں آرہے تو وہ یہی کمرہ جلسہ سالانہ کے منتظمین کو دیدیتے ہیں مگر جب جلسہ سالانہ کے مہمان آنے لگتے ہیں۔تو ان کے عزیز یا دوست کا ایمان جوش میں آتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ جلسہ سالانہ سے کیوں غیر حاضر ہوں۔چنانچہ جب وہ ربوہ پہنچ جاتے ہیں تو وہی کمرہ ان کو دیدیا جاتا ہے۔اس پر جلسہ سالانہ کے منتظمین شور مچا دیتے ہیں کہ تم نے تو ہمیں کمرہ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر کمرہ فارغ نہیں کیا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارے وہ مہمان جن کے آنے کی توقع نہیں تھی وہ آگئے ہیں۔وہ بھی تو آخر جلسہ کے مہمان ہیں اس لئے انہوں نے استعمال کر لیا ہے۔بہر حال اس مرحلہ پر ظاہری انتظام میں تو رخنہ پڑ جاتا ہے لیکن ایسے مالک مکان کا اخلاص اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔بعض دوست اس سلسلہ میں بھی بڑی قربانی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔وہ اپنا سارا گھر مہمانوں کو دیدیتے ہیں۔وہ خود کسی ایک کمرہ میں سمٹ کر گزارہ کر لیتے ہیں اور باقی سارا گھر خدا کے مہمانوں کیلئے فارغ کر دیتے ہیں۔دوسری طرف ایک وقت میں ہزاروں ہزار روپے چندہ دینے