خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 520
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۲۰ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء والے دوستوں کو اگر ربوہ میں کوئی غسل خانہ مل جائے جس میں پرالی پڑی ہوئی ہو تو وہ اسے بھی غنیمت سمجھتے ہیں اور شکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا بھی اور ممنون ہوتے ہیں منتظمین کے بھی کہ انہوں نے ہمارے لئے رہنے کا انتظام کر دیا ہے۔بہر حال اہلِ ربوہ کے لئے جس حد تک ممکن ہو وہ اس سلسلہ میں منتظمین جلسہ سے تعاون کریں علاوہ ان مہمانوں کے جو ان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انکے گھروں میں ٹھہرتے ہیں ان مہمانوں کے لئے بھی اپنے مکانوں کے بعض حصے فارغ کریں جوان سے تعلق تو رکھتے ہیں لیکن جلسہ کے انتظام کے ماتحت ٹھہرتے ہیں۔پس ایسے دوستوں کیلئے رہائش مہیا کرنے کیلئے بھی منتظمین جلسہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کرنا چاہیے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں ربوہ کی صفائی کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔جلسہ کے دنوں میں بھی صفائی ہونی چاہیے اور اس سے پہلے بھی صفائی ہونی چاہیے۔صفائی کی طرف اہلِ ربوہ کو بالعموم اور مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس صحت کو بالخصوص توجہ دینی چاہیے۔باہر کے وہ دوست جو اس عرصہ میں ربوہ نہیں آئے ان کو بعض تبدیلیاں تو نظر آئیں گی مثلاً سڑکوں کے بعض حصے پختہ ہو گئے ہیں۔ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ اور تبدیلیاں بھی نظر آئیں۔تاہم اس میں وقت لگے گا۔نئی جگہوں پر درخت لگائے جار ہے ہیں جو کھلی جگہیں تھیں ان کو استعمال کیلئے تیار کیا جارہا ہے۔کچھ تیار ہوگئی ہیں۔کچھ تیار ہورہی ہیں اور کچھ انشاء اللہ تیار ہو جائیں گی۔غرض صفائی کی طرف جس حد تک ممکن ہو ہمیں توجہ دینی چاہیے۔گو جس حد تک تو جہ دینے کی ضرورت ہے اس حد تک ہم سر دست توجہ نہیں دے سکتے کیونکہ اس وقت ہمارے ذرائع محدود ہیں۔لیکن کوشش کرتے رہنا چاہیے اور جس حد تک ممکن ہو، اپنے ماحول کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں یہاں کبھی کوئی بیماری وبائی صورت میں نہیں آئی حالانکہ مہمانوں کی تعداد ہزاروں بلکہ اب تو ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ایسی صورت میں احباب کا وبائی امراض سے محفوظ رہنا اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں کا مرہونِ منت ہے۔جلسہ سالانہ نے ربوہ کی زمین کو بڑا اچھا کر دیا ہے۔جس وقت ہم پہلے پہل یہاں آباد ہوئے تھے اس وقت ہر طرف کلر ہی کلر نظر آتا تھا جن دوستوں نے سن انچاس پچاس اور ا کا ون کے جلسے