خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 508
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۰۸ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء بہر حال مسلمانوں کی فوج صرف چودہ ہزار تھی جن میں سے بعض خدا کی راہ میں شہید بھی ہو گئے۔بعض زخمی بھی ہوئے اور بعض تو اس قسم کے زخمی ہوتے تھے کہ اگلی جنگ میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔بعض ایسے بھی تھے جو اگلی جنگ میں اپنی پوری جسمانی طاقت کے ساتھ حصہ نہیں لے سکتے تھے۔یہ سب کچھ تھا مگر انہوں نے اپنے عمل میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہونے دی۔ایک اجتماعی جہاد تھا جس میں اُمت محمدیہ کی چودہ ہزار نمائندہ فوج کسری کے مقابلہ میں مدافعانہ جنگ لڑ رہی تھی مگر نہ اُن میں کوئی دھن پیدا ہوا اور نہ ان میں کوئی کمزوری پیدا ہوئی ان مٹھی بھر مسلمانوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ہمارے اتنے آدمی مارے گئے۔ہماری طاقت کم ہو گئی ہے۔ہمارے اتنے آدمی زخمی ہو گئے ہیں اور وہ جنگ میں حصہ نہیں لے سکتے۔غرض ان میں سے کسی آدمی کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلا بلکہ جو زخمی تھے وہ اپنے ایثار کے جذبہ کے ماتحت اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے زخمی ہونے کے باوجود اور زخمی ہونے کی وجہ سے کمزور ہونے کے با وجود میدانِ جنگ میں آگئے اور اس طرح انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ تعداد کی کمی اور بعض کے زخمی ہونے کے باوجود اُن کے عمل میں کوئی ضعف نہیں پیدا ہوا بلکہ پہلی جنگ میں تو وہ بہت تھوڑے تھے اور ان کے مقابلے میں کسری کی فوج کے سپاہی ہر جنگ میں بڑھتے چلے گئے اور یہ کم ہوتے چلے گئے۔پس لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ کی رو سے مسلمانوں کی فوج کو خدا کی راہ میں شہادت اور تھوڑے بہت زخموں کے نتیجہ میں جو دُ کھ اور تکلیف پہنچی اور دنیا والوں کی نگاہ میں کمزوری پیدا ہوئی وہ خدا کے ان پاک اور محبوب بندوں کی نگاہ میں کمزوری نہیں ثابت ہوئی ان میں نہ وهُنَّ في الأمرِ کا کوئی شائبہ نظر آتا ہے اور نہ وَهُنَّ فِي الْعَمل کی کوئی مثال ملتی ہے۔وہ اسی جرات کے ساتھ اسی بہادری کے ساتھ خدا تعالیٰ پر اسی توکل کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح جذب کرتے ہوئے اگلے میدان میں چلے گئے۔پھر اگلے میدان میں چلے گئے اور پھر اس سے اگلے میدان میں چلے گئے۔پھر لِمَا أَصَابَهُمُ کی رُو سے دوسری کمزوری جس کا خطرہ پیدا ہوتا ہے وہ ضعف کا پیدا ہونا