خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 509
خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء ہے۔غصے کی زیادتی کے نتیجے میں بھی ضعف پیدا ہو جاتا ہے ضعف کا لفظ یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔اس کا میں نے اگلی آیت سے استدلال کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں خدا کی راہ میں جو دکھ اور تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تمہارے دل میں غصہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے تمہارے اندر ایک قسم کا ضعف پیدا ہو جاتا ہے مگر اس کے باوجود تم نے کسی پر زیادتی نہیں کرنی اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے گالیاں سُن کر دعا دو جو شخص گالیاں سن کر دعا دینے کی بجائے گالیاں دیتا ہے وہ اپنے مجاہدانہ عمل میں ضعف پیدا کرتا ہے کیونکہ اس کی توجہ دوسری طرف پھر جاتی ہے پھر آپ نے فرمایا :۔پا کے دکھ آرام دو جو شخص دُکھ پا تا لیکن دکھ سہتا نہیں بلکہ جوابی کاروائی کرتا ہے اور کہتا ہے میں تیری خبر لیتا ہوں ، تم نے ایک چپڑ لگائی ہے میں تجھے دو لگاؤں گا ، اس سے ضعف پیدا ہو گیا کیونکہ اس نے زیادتی کی ہے حالانکہ اس کا اصل مقصد صراط مستقیم کو اختیار کرنا ہے۔مگر ایک نے دائیں طرف توجہ پھیر لی اور دوسرے نے بائیں طرف پھیر لی اس لحاظ سے ضعف کا بڑا خطرہ ہے یعنی زیادتی ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے پاک اور محبوب بندے اس قسم کے ضعف میں مبتلا نہیں ہوتے وہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔تیسرا خطرہ استکانت کا ہے کچھ کمزور لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے متعلق یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں تذلل نہ اختیار کر لیں اور دشمن کا اثر قبول کر کے اس کے پیچھے نہ لگ جائیں مگر وہ جماعت جسے خدا تعالیٰ نے دُنیا کا قائد بنایا ہو اُسے نہ تو دشمن سے ڈرنا اور نہ اس کے پیچھے لگنا چاہیے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ خطرے بتا کر ان کے علاج کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی اس دوسری آیت میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے ان خطروں سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا منکرین اور مخالفین کے منہ سے تمہارے خلاف جو بات نکلتی ہے اس کے مقابلے میں تمہارے منہ سے یہ دُعانکلنی چاہیے۔رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا۔یعنی