خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 506
خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء چاہیے ورنہ تمہاری یہ حالت دھن یعنی سستی کہلائے گی۔اس لئے تمہیں اپنے دشمن سے کانٹیکٹ قائم رکھنا چاہیے۔اس کی تلاش کرنی چاہیے۔جہاں بھی ہو اور جس محاذ پر وہ جائے وہاں تک اس کا پیچھا کرنا چاہیے۔یاد رکھنا چاہیے کہ محاذ تلوار اور ایٹمی اسلحہ کا محاذ نہیں ہے۔ہماری اصل جنگ ادیان باطلہ کے خلاف ہے جو قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں دلائل کے ساتھ لڑی جارہی ہے (اسے جہاد کبیر کہتے ہیں اس کی کچھ تفصیل میں پہلے ایک خطبہ جمعہ میں بیان کر چکا ہوں ) پس یہ وہ اصل محاذ ہے جس پر ڈٹ جانا چاہیے میں نے دیکھا ہے اور میرا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے کہ بعض لوگ تبلیغ کرتے وقت ایک غلطی کر جاتے ہیں اور وہ یہ کہ مثلاً وہ اپنے مخالف کو ایک دلیل دیتے ہیں جب وہ لا جواب ہو جاتا ہے تو حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے بات کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے وہ یہ نہیں کہتا کہ واقعی دلیل تو آپ کی بڑی پختہ ہے اور میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ اس کے متعلق بعد میں بات کریں گے اور پھر جھٹ اپنی طرف سے ایک اور بحث چھیڑ دیتا ہے چنانچہ اس کا یہ رویہ کانٹیکٹ توڑنے کے مترادف ہے گویا ایک محاذ پر جب بھر پور جارحانہ حملہ ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ نہیں دوسرا محاذ لے لو آخر دلیل بھی تو ایک محاذ ہی ہے۔ہر دلیل ایک محاذ قائم کرتی ہے میں نے اپنے طالب علمی کے زمانہ میں جب بھی کسی دوسرے لڑکے سے بات کی یا کوئی دلیل دی اور اس نے لا جواب ہو کہ کہہ دیا کہ بعد میں بات کروں گا۔تو میں کہہ دیتا تھا کہ نہیں پہلے اس کا فیصلہ ہوگا پھر بعد میں دوسری طرف بھی جائیں گے۔غرض میں بتایہ رہا ہوں کہ ایسے موقعوں پر احباب جماعت کو یہ کہنا چاہیے کہ ہم دلیل ضرور دیں گے لیکن ہم کانٹیکٹ نہیں توڑنے دیں گے۔زیر بحث دلیل کا پہلے فیصلہ ہو گا بعد میں دوسری دلیل لیں گے۔بعض لوگ یہ کانٹیکٹ توڑ دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں اگر کوئی فائدہ ہورہا ہوتا ہے تو وہ بھی نہیں ہوتا۔ایسی صورت میں مد مقابل سے یہ کہلوالینا چاہیے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس دلیل کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور وہ دوسری دلیل معلوم کرنا چاہتا ہے پھر اس کے ساتھ بحث کرنی چاہیے۔ورنہ جب کانٹیکٹ ٹوٹ جائے تو اس کو ازسرنو قائم نہ کرنا اس کو بھی قرآن کریم